وفاقی وزیر خزانہ محمد اورنگزیب کا کہنا ہے کہ بی آئی ایس پی کے بجٹ میں 17 فیصد کا تاریخی اضافہ کرنے کی تجویز ہے۔
قومی اسمبلی میں بجٹ پیش کرتے ہوئے وفاقی وزیر برائے خزانہ محمد اورنگزیب نے کہا کہ بی آئی ایس پی کا مجموعی بجت بڑھا کر 838 ارب روپے کرنے کی تجویز پیش کردی گئی ہے۔
انہوں نے کہا کہ کفالت پروگرام کی کوریج بڑھا کر 1 کروڑ 20 لاکھ خاندانوں تک پہنچائی جائے گی۔
وزیر خزانہ نے کہا کہ تعلیمی وظائف پروگرام کو وسعت دی جائے گی، 92 لاکھ بچوں کو تعلیمی وظائف سے فائدہ پہنچے گا۔
محمد اورنگزیب کا کہنا تھا کہ وزیراعظم ’اپنا گھر اسکیم‘ کے لیے بجٹ میں 71 ارب روپے کی خطیر رقم مختص کردی گئی ہے۔
یہ پڑھیں: مزدور اور سرکاری ملازمین کی تنخواہوں و پنشن میں اضافہ، انکم ٹیکس میں ریلیف
بجٹ دستاویز
بجٹ دستاویز کے مطابق وفاقی بجٹ کا مجموعی حجم 18ہزار 771ارب روپے ہوگا،سود کی ادائیگی پر 8ہزار 54ارب روپے مختص کرنے، پینشن پر مجموعی طور پر 1169ارب روپے خرچ کرنے کا تخمینہ ہے جس میں ملٹری پینشن پر 822ارب روپے خرچ کرنے جبکہ سول پینشن پر 272ارب روپے خرچ کرنے کا تخمینہ ہے۔
دفاع کے لیے 3ہزار ارب روپے مختص کرنے کا تخمینہ ہے جبکہ سبسڈی کی مد میں 1091ارب روپے مختص کرنے کا تخمینہ ہے۔
بجٹ دستاویز کے مطابق سول حکومت پر اخراجات کا تخمینہ 1071ارب روپے خرچ کرنے کا تخمینہ ہے جبکہ ایمرجنسی صورتحال سے نمٹنے کے لیے 430ارب روپے مختص کرنے کا تخمینہ ہے، مجموعی طور پر جاری اخراجات 17ہزار 495ارب روپے مختص کرنے کا تخمینہ ہے۔
بجٹ دستاویز کے مطابق وفاقی ترقیاتی بجٹ کا حجم 1050ارب ہوگا جبکہ ایف بی آر کا ٹیکس وصولی کا ہدف 15ہزار264ارب روپے رہنے کا تخمینہ ہے۔


