منگل, اگست 18, 2026
اشتہار

وفاقی بجٹ سے ’’بلیک اکانومی کو فروغ‘‘ ملے گا!

اشتہار

حیرت انگیز

کراچی (18 جون 2026): ایف پی سی سی آئی نے وفاقی بجٹ میں صنعتی خام مال کے لیے کمرشل اور انڈسٹریل امپورٹرز کے درمیان ٹیکس کے بڑے فرق کو مسترد کرتے ہوئے خبردار کیا ہے کہ اس سے جعلی صنعتی یونٹس قائم ہوں گے، بلیک اکانومی کو فروغ ملے گا اور قومی خزانے کو بھاری نقصان پہنچے گا۔

ایف پی سی سی آئی کے سینئر نائب صدر ثاقب فیاض نے کہا کہ حالیہ بجٹ میں انڈسٹریل اور کمرشل امپورٹرز کے درمیان ٹیکس کا فرق 6 سے بڑھا کر 9 فی صد تک کر دیا گیا ہے۔ اتنا بڑا فرق غیر قانونی سرگرمیوں کی حوصلہ افزائی کرے گا اور ملک میں بڑے پیمانے پر جعلی صنعتی یونٹس وجود میں آئیں گے۔


بجٹ 2026: تاجروں، صنعت کاروں نے معاشی بحالی کا فارمولا پیش کر دیا


چیئرمین یارن مرچنٹس ایسوسی ایشن ثاقب گڈ لک نے کہا کہ گزشتہ 15 برس سے کمرشل امپورٹرز کو یکساں مواقع نہیں دیے گئے۔ نائب صدر ایف پی سی سی آئی آصف سخی نے کہا کہ صنعتی خام مال فیکٹریوں میں استعمال ہونے کی بجائے مارکیٹ میں فروخت کیا جا رہا ہے۔ ساٹ بزنس کمیونٹی کا کہنا تھا کہ صنعتوں کا کام مینوفیکچرنگ ہے۔ ٹریڈنگ نہیں اس لیے حکومت اس پالیسی پر نظرثانی کرے۔

اہم ترین

انجم وہاب
انجم وہاب
انجم وہاب اے آر وائی نیوز سے وابستہ ہیں اور تجارت، صنعت و حرفت اور دیگر کاروباری خبریں دیتے ہیں

مزید خبریں