رپورٹ: حارث ضمیر
…………………….
کراچی (5 جون 2026): اگلے مالی سال 27-2026 کے لیے وفاقی بجٹ رواں ماہ پیش کیا جائے گا جس میں گاڑیوں کی قیمتیں بڑھنے کا امکان ہے۔
پاکستان کی آٹو موبائل انڈسٹری فروخت میں ممکنہ سست روی کا شکار ہے کیونکہ حکومت گاڑیوں کی تمام کیٹیگریز پر 18 فیصد سیلز ٹیکس عائد کر سکتی ہے۔ یہ حکومت کا ایسا اقدام ہوگا، جس سے گاڑیوں کی قیمتوں میں نمایاں اضافہ اور صارفین کی طلب میں کمی کا امکان ہے۔
آٹو موبائل انڈسٹری ذرائع کے مطابق نئے ٹیکس نظام کا اطلاق تمام گاڑیوں پر ہوگا، جن میں الیکٹرک وہیکلز (EVs)، پلگ ان ہائبرڈ الیکٹرک وہیکلز (PHEVs)، رینج ایکسٹینڈڈ الیکٹرک وہیکلز (REEVs)، ہائبرڈ گاڑیاں اور روایتی پیٹرول سے چلنے والی کاریں شامل ہیں۔
حکومت کے اس اقدام سے الیکٹرک اور ہائبرڈ ٹیکنالوجی کو جو ٹیکس فوائد مل رہے تھے، وہ ختم ہونے کا امکان ہے جس کے نتیجے میں گاڑیوں کی قیمتوں میں بڑے اضافے کا امکان ہے۔
کن گاڑیوں میں کتنا اضافہ ہو سکتا ہے؟
مارکیٹ کے تخمینے بتاتے ہیں کہ EVs، PHEVs اور REEVs کی قیمتوں میں تقریباً 17 فیصد اضافہ ہو سکتا ہے، جبکہ ہائبرڈ گاڑیوں کی قیمتوں میں تقریباً 10 فیصد اضافے کی توقع کی جا رہی ہے۔
اس اضافے سے صارفین کے لیے گاڑیاں ایک ایسے وقت میں مہنگی ہونے کی توقع ہے جب عوام کی قوت خرید پہلے ہی دباؤ میں ہے۔
اس صنعت سے وابستہ حکام نے کہا کہ نافذ ہونے والے ٹیکس کا زیادہ بوجھ صارفین پر ہی ڈالا جائے گا، جس کے نتیجے میں گاڑیوں کی قیمتوں میں فوری اضافے کی توقع ہے۔
اس حوالے سے تجزیہ کاروں اور گاڑیوں کی یصنعت کے اسٹیک ہولڈرز کا کہنا ہے کہ ٹیکس میں اضافے سے گاڑیوں کی فروخت پر منفی اثر پڑے گا۔ اس کے ساتھ ہی یہ اقدام آٹو انڈسٹری کے فروغ میں بھی رکاوٹ ثابت ہوگا۔
صنعت کے ماہرین نے خبردار کیا کہ اگرچہ یہ اقدام حکومت کے لیے اضافی ٹیکس محصولات پیدا کر سکتا ہے، لیکن یہ گاڑیوں کی فروخت میں ترقی کی رفتار کو کم کر سکتا ہے اور صاف نقل و حمل کی ٹیکنالوجی کو فروغ دینے کی کوششوں کو نقصان پہنچا سکتا ہے۔


