اسلام آباد (17 مئی 2026): آئی ایم ایف کے اہداف مکمل کرنے کے لیے حکومت نے آئندہ بجٹ میں ریٹیلرز اسکیم لانے کا فیصلہ کیا ہے۔
اگلے مالی سال کے لیے وفاقی حکومت کی بجٹ تیاریاں جاری ہیں اور آئی ایم ایف کے وفد سے بھی کئی میٹنگز ہو چکی ہیں جب کہ اسٹیک ہولڈرز سے بھی مشاورت جاری ہے۔
ایف بی آر کے ذرائع نے بتایا ہے کہ حکومت نے آئی ایم ایف اہداف کے مطابق ریٹیل سیکٹر سے سیلز ٹیکس آمدنی بڑھانے کے لیے آئندہ بجٹ میں ریٹیلرز کے لیے فکسڈ ٹیکس اسکیم متعارف کرانے کا فیصلہ کیا ہے۔
ذرائع کا کہنا ہے کہ ریٹیلرز کو ٹیکس نیٹ میں لانے کے لیے نئی فکسڈ ٹیکس اسکیم پورے ملک کے لیے متعارف کرائی جائے گی۔ آئندہ ہفتے آئی ایم ایف سے ریٹیلرز اسکیم پر مذاکرات کے دوران حتمی منظوری لی جائے گی۔
اس اسکیم کے تحت سالانہ 20 کروڑ روپے تک کاروبار کرنے والے ریٹیلرز کو رجسٹریشن کرانا ہو گی۔ فکسڈ ٹیکس اسکیم کے تحت 20 کروڑ روپے تک ٹرن اوور پر ایک فیصد ٹیکس ادا کرنا ہو گا۔
ریٹیلرز کے لیے نئی فکسڈ ٹیکس اسکیم کو مکمل طور پر اردو زبان میں تیار کیا گیا ہے۔ تاہم ریٹیلرز کیلیے دکان کا سائز یا ایریا شامل کرنے کی تجویز اس بار اسکیم میں شامل نہیں کی جائے گی۔
ذرائع نے مزید بتایا کہ 30 لاکھ ریٹیلرز کو ٹیکس نیٹ میں رجسٹرڈ کرنے اسکیم متعارف کرائی جا رہی ہے اور ابتدائی طور پر زیادہ رجسٹریشن کے لیے آئندہ بجٹ میں کم تعداد میں اہداف اور ٹیکس مقرر کیا جائے گا۔
Shoaib Nizami reports Finance, Fedeal Board of Revenue, Planning , Public Accounts, Banking, Capital Market, SECP, IMF, World Bank, Asian Development Bank, FATF updates for ARY News


