اتوار, جولائی 19, 2026
اشتہار

کراچی کے صنعت کاروں نے بجٹ 2026-27 کو صنعت کی بحالی کے لیے ناکافی قرار دے دیا

اشتہار

حیرت انگیز

کراچی (13 جون 2026): سائٹ کراچی کے صنعت کاروں نے بجٹ 2026-27 کو صنعت کی بحالی کے لیے ناکافی قرار دے دیا، ان کا کہنا ہے کہ سپر ٹیکس میں معمولی کمی، زائد توانائی نرخ نصف صلاحیت پر چلنے والی فیکٹریوں کو دوبارہ زندہ نہیں کر سکتی، صنعت کو ایک انقلابی بجٹ درکار تھا مگر اسے ایک معمول کا بجٹ دیا گیا۔

صدر سائٹ انڈسٹری ایسوسی ایشن عبدالرحمان فدا نے کہا ہے کہ فائنل ٹیکس رجیم بحال نہیں ہوا، صنعتوں کو بریک تھرو بجٹ درکار ہے، حکومت خامیوں کو ترامیم کے ذریعے دور کرے۔

سائٹ ایسوسی ایشن آف انڈسٹری کراچی نے وفاقی بجٹ 2026-27 کا جائزہ لیتے ہوئے بعض اقدامات کو محتاط انداز میں سراہا ہے، تاہم مجموعی طور پر بجٹ کو صنعت کی بحالی کے لیے ناکافی قرار دیا ہے۔ ایسوسی ایشن کے صدر عبدالرحمان فدا نے کہا کہ ہمارے ممبران حکومت کے اقدامات کو تسلیم کرتے ہیں مگر اصلاحات کی رفتار کو مسترد کرتے ہیں۔


کوئلہ سستا ہونے کا امکان، آئی ایم ایف نے اجازت دے دی


انھوں نے کہا 5 سالوں پر محیط ٹیرف اصلاحات، سپر ٹیکس کے خاتمے کی بجائے معمولی کمی، اور صنعتی توانائی کے نرخوں پر مکمل خاموشی نصف سے بھی کم استعداد پر چلنے والی فیکٹریوں کو دوبارہ زندہ نہیں کر سکتی۔

سائٹ ایسوسی ایشن کے برآمدی شعبے سے وابستہ صنعتکاروں بالخصوص ٹیکسٹائل، لائٹ انجینئرنگ، کیمیکلز اور پروسیسڈ گڈز نے شدید مایوسی کا اظہار کیا ہے۔ ایکسپورٹ ود ہولڈنگ ٹیکس میں 2 فی صد سے 1.25 فی صد کی کمی اس سیکٹر کے لیے محض علامتی ریلیف ہے جس پر مؤثر ٹیکس کا بوجھ صنعتی اداروں کے مطابق 68 فی صد سے بھی زیادہ ہے، فائنل ٹیکس رجیم کی بحالی کا دیرینہ اور بار بار دہرایا جانے والا مطالبہ ایک بار پھر نظر انداز کر دیا گیا۔

انھوں نے مزید کہا کہ سب سے تشویش ناک پہلو یہ ہے کہ فنانس بل میں برآمد کنندگان کو واجب الادا اربوں روپے کے بقایا جات جی ایس ٹی اور انکم ٹیکس ریفنڈز کی ادائیگی کا کوئی طریقہ کار شامل نہیں کیا گیا۔ یہ رقوم ایف بی آر کے نظام میں پھنسی ہوئی ہیں جب کہ مینوفیکچررز پیداواری لاگت میں مسلسل اضافے اور بین الاقوامی مارکیٹوں میں مسابقت کے لیے سرمائے کی شدید قلت کا سامنا کر رہے ہیں۔

سائٹ ایسوسی ایشن نے تین بڑے غیر حل شدہ مسائل کی نشان دہی کی جس میں پہلا انتہائی مہنگے صنعتی بجلی کے نرخ جو پاکستانی مینوفیکچررز کو علاقائی حریفوں کے مقابلے میں غیر مسابقتی بنا دیتے ہیں، دوسرا سیلز ٹیکس کے تھرڈ شیڈول کی توسیع جو مینوفیکچررز کو صارف قیمتوں پر سیلز ٹیکس پہلے سے ادا کرنے پر مجبور کرتی ہے اور ورکنگ کیپیٹل کو مزید نچوڑ دیتی ہے، تیسرا سخت ترین جرمانوں کا نیا نظام جو قانون کی پابندی کرنے والے کاروباروں پر غیر متناسب بوجھ ڈالتا ہے جب کہ غیر رسمی معیشت بدستور بے لگام ہے۔

عبدالرحمان فدا نے کہا کہ ٹیکس ادا کرنے والے صنعتی شعبے نے بھاری ٹیکسز، مہنگی توانائی، تاخیر سے ریفنڈز اور اب سخت جرمانوں کا بوجھ بھی برداشت کرنا ہے، تو پھر اس کے باوجود یہ توقع کیسے کی جا سکتی ہے کہ وہ عالمی سطح پر مقابلہ کرے۔ یہی اصل بحران ہے اور یہ بجٹ اس بحران کو دور کرنے میں بری طرح ناکام دکھائی دیتا ہے۔

انھوں نے حکومت سے مطالبہ کیا کہ قومی اسمبلی سے فنانس بل کی حتمی منظوری اور یکم جولائی سے نئے مالی سال کے آغاز سے قبل ان تمام خامیوں کو فوری ترامیم کے ذریعے دور کیا جائے بہ صورتِ دیگر صنعتی بحران مزید سنگین ہو جائے گا۔

اہم ترین

انجم وہاب
انجم وہاب
انجم وہاب اے آر وائی نیوز سے وابستہ ہیں اور تجارت، صنعت و حرفت اور دیگر کاروباری خبریں دیتے ہیں

مزید خبریں