بدھ, جولائی 15, 2026
اشتہار

بجٹ میں سرمایہ کاری اور صنعتی سرگرمیوں کے فروغ کو نظر انداز کیے جانے پر کاروباری حلقوں میں تشویش

اشتہار

حیرت انگیز

کراچی (10 جون 2026): حکومتی بجٹ 2026-27 میں سرمایہ کاری اور صنعتی سرگرمیوں کے فروغ کو نظر انداز کیے جانے پر کاروباری حلقوں میں تشویش پائی جا رہی ہے۔

کاروباری برادری میں یہ تاثر ابھر رہا ہے کہ بجٹ میں سرمایہ کاری، صنعتی بحالی اور اقتصادی سرگرمیوں کے فروغ کے لیے درکار اصلاحات اور مراعات کو خاطر خواہ اہمیت نہیں دی گئی، جس پر مختلف تجارتی و صنعتی حلقوں کی جانب سے تشویش کا اظہار کیا جا رہا ہے۔

لسبیلہ چیمبر آف کامرس اینڈ انڈسٹری (ایل سی سی آئی) نے وفاقی حکومت سے مطالبہ کیا ہے کہ آئندہ مالی سال 2026-27 کے بجٹ میں ٹیکس، توانائی، تجارت اور سرمایہ کاری سے متعلق جامع اصلاحات متعارف کرائی جائیں تاکہ صنعتی سرگرمیوں کو فروغ، سرمایہ کاری میں اضافہ اور کاروباری برادری کا اعتماد بحال کیا جا سکے۔

چیمبر کی جانب سے جاری کردہ پریس ریلیز میں کہا گیا ہے کہ پاکستان کی معاشی بحالی ایک مستحکم، مسابقتی اور کاروبار دوست ماحول کے قیام سے مشروط ہے۔ ایل سی سی آئی کے مطابق حکومت کی صنعتی ترقی اور روزگار کے مواقع بڑھانے کی پالیسیوں کو مؤثر بنانے کے لیے افراطِ زر اور مالیاتی خسارے میں کمی کے واضح اہداف، پالیسیوں میں تسلسل اور شفاف زرمبادلہ پالیسی ناگزیر ہیں۔

چیمبر نے ٹیکس اصلاحات کے حوالے سے ایڈہاک ٹیکس اقدامات کے خاتمے، کارپوریٹ ٹیکس کی شرح میں مرحلہ وار کمی، ودہولڈنگ ٹیکسز کو معقول بنانے اور ٹیکس نظام کو آسان بنانے کی سفارش کی ہے۔ ساتھ ہی مقامی و غیر ملکی سرمایہ کاروں کے لیے ٹیکس تنازعات کے فوری حل کا مؤثر نظام قائم کرنے پر بھی زور دیا گیا ہے۔


بجٹ 2026: تاجروں، صنعت کاروں نے معاشی بحالی کا فارمولا پیش کر دیا


ایل سی سی آئی نے برآمدی صنعتوں، ویلیو ایڈیشن مصنوعات، دواسازی، ایگرو پروسیسنگ اور معدنیات کے شعبوں کے لیے خصوصی مراعات دینے اور بڑے سرمایہ کاری منصوبوں کے لیے ون ونڈو اور فاسٹ ٹریک منظوری نظام متعارف کرانے کی تجویز بھی پیش کی ہے۔

پریس ریلیز میں توانائی کے بڑھتے ہوئے اخراجات پر تشویش کا اظہار کرتے ہوئے کہا گیا کہ صنعتی و تجارتی شعبے کو مسابقتی بنانے کے لیے بجلی کی قیمتوں میں کمی ضروری ہے۔ اس مقصد کے لیے طویل المدتی بجلی خریداری معاہدوں، کمزور صنعتی یونٹس کے لیے بروقت سبسڈیز اور قابلِ تجدید توانائی کے ذرائع کے فروغ کی سفارش کی گئی ہے۔

چیمبر نے مزید مطالبہ کیا کہ ڈیوٹی ڈرا بیک اور ٹیکس ریفنڈز کے نظام کو تیز تر بنایا جائے، بندرگاہوں اور کسٹمز آپریشنز کو مکمل طور پر ڈیجیٹلائز کیا جائے اور اہم تجارتی شراکت دار ممالک کے ساتھ ترجیحی تجارتی معاہدوں کو وسعت دی جائے تاکہ برآمدات میں اضافہ ممکن ہو سکے۔

ایل سی سی آئی نے ایس ایم ایز اور برآمد کنندگان کے لیے مالی سہولیات تک رسائی بہتر بنانے، صنعتی کلسٹرز اور خصوصی صنعتی زونز کے قیام، افرادی قوت کی تربیت، ٹیکنالوجی اپ گریڈیشن اور ڈیجیٹل تبدیلی کے لیے مراعات دینے کی بھی سفارش کی۔

چیمبر نے خبردار کیا کہ اگر کاروباری برادری کی تجاویز کو بجٹ سازی میں نظر انداز کیا گیا تو اس کے منفی اثرات معیشت، سرمایہ کاری اور صنعتی ترقی پر مرتب ہو سکتے ہیں۔ ایل سی سی آئی کے مطابق ٹیکس، توانائی اور تجارتی اصلاحات کے بغیر پاکستان کے لیے سرمایہ کاروں کا اعتماد برقرار رکھنا مشکل ہوگا۔

اہم ترین

انجم وہاب
انجم وہاب
انجم وہاب اے آر وائی نیوز سے وابستہ ہیں اور تجارت، صنعت و حرفت اور دیگر کاروباری خبریں دیتے ہیں

مزید خبریں