وفاقی وزیر خزانہ محمد اورنگزیب نے کہا کہ پائیدار شہری ترقی، ہاؤسنگ شعبے کے لیے 54.6 ارب روپے مختص کیے گئے ہیں۔
قومی اسمبلی میں بجٹ پیش کرتے ہوئے وفاقی وزیر برائے خزانہ محمد اورنگزیب نے کہا کہ ایک لاکھ 50 ہزار سستے اور ماحولیاتی لچکدار رہائشی یونٹس بنیں گے۔
انہوں نے کہا کہ صنعت و تجارت کے لیے 6.6 ارب روپے مختص کیے گئے ہیں۔
وزیر خزانہ نے کہا کہ کراچی کے واٹر سپلائی منصوبے کے فور کے لے 10 ارب روپے مختص کیے گئے ہیں، ٹیکسٹائل شعبے میں اسمیڈا کے تحت ایک ہزار انڈسٹریل اسٹچنگ یونٹس کے دوسرے مرحلے کی توسیع ہوگی۔
یہ پڑھیں: مزدور اور سرکاری ملازمین کی تنخواہوں و پنشن میں اضافہ، انکم ٹیکس میں ریلیف
بجٹ دستاویز
بجٹ دستاویز کے مطابق وفاقی بجٹ کا مجموعی حجم 18ہزار 771ارب روپے ہوگا،سود کی ادائیگی پر 8ہزار 54ارب روپے مختص کرنے، پینشن پر مجموعی طور پر 1169ارب روپے خرچ کرنے کا تخمینہ ہے جس میں ملٹری پینشن پر 822ارب روپے خرچ کرنے جبکہ سول پینشن پر 272ارب روپے خرچ کرنے کا تخمینہ ہے۔
دفاع کے لیے 3ہزار ارب روپے مختص کرنے کا تخمینہ ہے جبکہ سبسڈی کی مد میں 1091ارب روپے مختص کرنے کا تخمینہ ہے۔
بجٹ دستاویز کے مطابق سول حکومت پر اخراجات کا تخمینہ 1071ارب روپے خرچ کرنے کا تخمینہ ہے جبکہ ایمرجنسی صورتحال سے نمٹنے کے لیے 430ارب روپے مختص کرنے کا تخمینہ ہے، مجموعی طور پر جاری اخراجات 17ہزار 495ارب روپے مختص کرنے کا تخمینہ ہے۔
بجٹ دستاویز کے مطابق وفاقی ترقیاتی بجٹ کا حجم 1050ارب ہوگا جبکہ ایف بی آر کا ٹیکس وصولی کا ہدف 15ہزار264ارب روپے رہنے کا تخمینہ ہے۔


