The news is by your side.

Advertisement

بجٹ‌ اجلاس میں‌ 70 اراکین غائب: سب ہوتے تب بھی منظور ہی ہوتا، مسلم لیگ ن

اسلام آباد: قومی اسمبلی میں آئندہ مالی سال 2021-2022 کے بجٹ کی منظوری کے  ہونے والے اجلاس میں شہبازشریف سمیت مسلم لیگ ن کے 70 اراکین قومی اسمبلی غائب رہے۔

اے آر وائی نیوز کے مطابق قومی اسمبلی میں آئندہ مالی سال 2021-2022 کے بجٹ کی شق وار منظوری کے حوالے سے ہونے والے اجلاس میں مسلم لیگ ن کے رہنما اور قائد حزب اختلاف شہباز شریف غائب رہے۔

ذرائع نے بتایا کہ بجٹ منظوری کے اجلاس میں مسلم لیگ ن کے 70 اراکین غیر حاضر رہے، کُل 84 میں سے صرف چودہ اراکین ایوان میں موجود تھے۔

دوسری جانب پاکستان پیپلزپارٹی کے چیئرمین بلاول بھٹو نے بھی اجلاس میں شرکت کی، بجٹ منظوری  کے اجلاس میں پی پی کے 56 میں سے 54 اراکین شریک ہوئے جبکہ دو کرونا مثبت ہونے کی وجہ سے غیر حاضر رہے۔

فنانس بل کو جب ایوان میں پیش کیا گیا تو اپوزیشن کے 138 اراکین نے مخالفت جبکہ حکومت اور اتحادی جماعتوں کے 172 ارکان نے حق میں ووٹ دیا، جس کے بعد اسپیکر اسد قیصر نے کثرتِ رائے سے بجٹ منظوری کا اعلان کیا۔

دوسری جانب مسلم لیگ ن کی ترجمان مریم اورنگزیب نے سماجی رابطے کی ویب سائٹ پر وضاحت پیش کی کہ ’تمام ارکان موجود ہوتے تو بجٹ کو منظوری سے روکا نہیں جاسکتا تھا کیونکہ بجٹ 172 ووٹ سے منظور ہوا، سردار اخترمینگل اور جماعت اسلامی کی عدم موجودگی کے بعد اپوزیشن کے مجموعی ووٹ 161 بنتے تھے، ایسی صورت میں اگر سب شریک ہوتے تو فنانس بل پر کوئی اثر  پڑتا‘۔

مزید پڑھیں: قومی اسمبلی نے وفاقی بجٹ کی منظوری دے دی

انہوں نے کہا کہ ’سستی سیاسی بیان بازی لاحاصل مشق ہے، اپوزیشن کاکام بجٹ نکات کی خامیوں اور نقائص کی نشاندہی ہوتا ہے، تاریخ کاپہلابجٹ ہےجس میں اپوزیشن کی نشاندہی پر تبدیلیاں ہوئیں،فنانس بل میں اپوزیشن کی تجویزکردہ 15 شقوں میں 35 سے زائد ترامیم کی گئیں، 12 جون کو پیش اور29جون کو منظور ہونے والے بجٹ میں فرق ہے‘۔

مریم اورنگزیب نے دعویٰ کیا کہ ’اپوزیشن نےعوام کےبہترین مفادمیں اپناکردار ادا کیا، سیاسی بیان بازی سےحقیقت بدلی نہیں جاسکتی‘۔

Comments

یہ بھی پڑھیں