بجٹ 18-2017: صحت کے شعبے میں جدید اقدامات کی ضرورت -
The news is by your side.

Advertisement

بجٹ 18-2017: صحت کے شعبے میں جدید اقدامات کی ضرورت

مالی سال 18-2017 کا بجٹ آیا ہی چاہتا ہے اور ہر بار امیدیں پوری نہ ہونے کے باوجود عوام نے ایک بار پھر سے امیدیں لگا لی ہیں کہ شاید اس بار بجٹ میں عوام کا بھی خیال رکھا جائے۔

لوگوں کی مسیحائی کا مقدس فریضہ انجام دینے والے لاکھوں ڈاکٹرز بھی پر امید ہیں کہ اس بار بجٹ میں نہ صرف ان کی ذاتی بلکہ شعبہ طب کی بہتری پر بھی توجہ دی جائے گی اور دنیا بھر کی طرح پاکستان میں بھی طب میں کی جانے والی نئی ایجادات اور ٹیکنالوجیز کو متعارف کروایا جائے گا تاکہ معمولی بیماریوں کے ہاتھوں مرنے والے لاکھوں افراد کی جانیں بچائی جاسکیں۔

پاکستان میڈیکل ایسوسی ایشن کے جنرل سیکریٹری ڈاکٹر قیصر سجاد نے اس بارے میں گفتگو کرتے ہوئے بتایا کہ ان کی ایسوسی ایشن طویل عرصے سے کوشش کر رہی ہے کہ بجٹ میں صحت کے لیے اعشاریوں پر مبنی بجٹ کے بجائے کل بجٹ کا 6 فیصد حصہ مختص کیا جائے۔

انہوں نے کہا، ’لوگوں کی صحت، معاشروں اور ملکوں کی ترقی کی ضامن ہے۔ اگر لوگ صحت مند نہیں ہوں گے تو وہ کس طرح قوم کی ترقی میں اپنا کردار ادا کر سکیں گے‘؟

ڈاکٹر قیصر کا کہنا تھا کہ صحت جیسے اہم شعبے کے لیے بجٹ کا معقول حصہ مختص کرنا، اور اس رقم کو دانش مندی سے استعمال کرنا نہایت ضروری ہے۔

انہوں نے اچانک پھیلنے والے وبائی امراض جیسے ڈینگی اور چکن گونیا کو صحت کے لیے سب سے بڑا خطرہ قرار دیتے ہوئے اس کے خاتمے کے اقدامات پر زور دیا۔ ’ہم نے کئی سال پہلے خبردار کردیا تھا کہ ڈینگی کا مرض پاکستان میں پھیلے گا، تاہم اس وقت اس بات پر توجہ نہیں دی گئی‘۔

ڈاکٹر قیصر نے دل دہلا دینے والا انکشاف کرتے ہوئے کہا کہ پاکستان میں زیکا وائرس بھی موجود ہے۔ یہ اچانک ایسے ہی ابھر کر سامنے آئے گا جیسے ڈینگی یا چکن گونیا سامنے آئے ہیں۔

انہوں نے ان جان لیوا امراض کے درست طریقے سے سدباب کے لیے اقدامات کرنے پر زور دیا۔ ’اب جبکہ چکن گونیا پھیل گیا ہے، تو خطیر رقم خرچ کر کے اس کی کٹ منگوائی جارہی ہے۔ جبکہ مرض کی جڑ پر کسی کی توجہ نہیں‘۔

ڈاکٹر قیصر کے مطابق ڈینگی، چکن گونیا اور زیکا وائرس مچھر کی ایک ہی قسم سے ہوتے ہیں تو بجائے ان تینوں امراض پر بے تحاشہ رقم خرچ کرنے کے، اگر اس مچھر کے خاتمے پر توجہ دی جائے تو یہ تینوں خطرناک امراض خود ہی ختم ہوجائیں گے۔

ڈاکٹرز کو سہولیات کی فراہمی

اقوام متحدہ کی ایوارڈ یافتہ ڈاکٹر سارہ خرم نے اے آر وائی نیوز سے گفتگو کرتے ہوئے کہا کہ شعبہ طب سے وابستہ افراد کو سہولیات کی فراہمی اور مراعات میں اضافہ سب سے زیادہ ضروری ہے اور ہمارے دیہی علاقوں میں ڈاکٹرز کی عدم موجودگی کی وجہ یہی ہے۔

انہوں نے کہا، ’ڈاکٹرز اور پیرا میڈیکل اسٹاف کی تنخواہیں خیبر پختونخواہ اور پنجاب کے ڈاکٹرز کے برابر ہونی چاہئیں‘۔

ان کے مطابق سرکاری اسپتالوں میں لیبارٹریز اور مختلف امراض کے تشخیص کی مشینوں کی بھی ازحد ضرورت ہے۔ ’کئی امراض کو غلط تشخیص کیا جاتا ہے جس کے باعث بعض اوقات معمولی مرض بھی، جس کا بآسانی علاج کیا جاسکتا ہے، بڑھ کر جان لیوا صورت اختیار کرلیتا ہے‘۔

انہوں نے ایک اور امر کی طرف اشارہ کیا کہ چھوٹے علاقوں، قصبوں اور گاؤں دیہاتوں میں صرف ڈسپنسریز بنانا کافی نہیں جہاں معمولی سر درد اور بخار کی ادویات موجود ہوں۔ بلکہ مختلف امراض کی باقاعدہ اسپیشلائزڈ ویکسین اور ادویات کی فراہمی بھی ضروری ہے۔

خواتین اور بچے مختلف امراض کا آسان ہدف

ڈاکٹر سارہ نے افسوس کا اظہار کرتے ہوئے کہا کہ خواتین اور بچوں کی صحت کسی بھی ملک کی اول ترجیح ہونی چاہیئے کیونکہ یہ دونوں صحت مند ہوں گے تو ہی نئی نسل معاشرے کی ترقی میں اپنا کردار ادا کرسکے گی، ’لیکن ہمارے یہاں صورتحال الٹ ہے‘۔

ان کا کہنا تھا کہ دیہی اور کم ترقی یافتہ علاقوں میں بچوں کی پیدائش میں خواتین کو بے شمار مسائل کا سامنا ہوتا ہے جن پر دانش مندانہ حکمت عملی اپنا کر باآسانی قابو پایا جاسکتا ہے۔

ان کے مطابق گاؤں دیہاتوں میں سرگرم عمل دائیوں، مڈ وائفس اور نرسز کی درست تربیت ضروری ہے تاکہ ان کے ہاتھوں کسی کی زندگی برباد نہ ہو۔

ڈاکٹر سارہ کے مطابق طب کے شعبے میں خواتین اور بچوں کے لیے مندرجہ ذیل خصوصی اصلاحات کی جانی بے حد ضروری ہیں۔

حمل شروع ہونے سے لے کر بچے کی پیدائش کے کچھ عرصے بعد تک خواتین کے لیے خصوصی طبی سہولیات کی فراہمی اور دیکھ بھال۔

نومولود بچوں کی تربیت یافتہ نرسز کے ہاتھوں دیکھ بھال۔

ڈیلیوری کے لیے آسان اور کم قیمت پیکجز۔

سرکاری اسپتالوں میں ماہر اطفال کی تعیناتی۔

پیدائش سے قبل ماں کے لیے اور پیدائش کے بعد نومولود بچے کے لیے ضروری تمام ویکسین اور ٹیکوں کی دستیابی۔

دور دراز گاؤں دیہاتوں میں موجود سرکاری اسپتالوں میں حاملہ خواتین کے لیے تمام ضروری سہولیات جیسے مطلوبہ ادویات، الٹرا ساؤنڈ مشینوں اور پیدائش کی بعد کسی پیچیدگی کی صورت میں وینٹی لیٹرز کی موجودگی۔

صفائی ستھرائی کا فقدان

ڈاکٹر سارہ نے مختلف پیچیدگیوں کے بڑھنے کی اہم وجہ صفائی ستھرائی کے فقدان کو قرار دیا۔

ان کا کہنا تھا، ’گھروں میں اسپتال کھول لیے گئے ہیں جہاں ڈیلیوریز کروائی جارہی ہیں۔ دور دراز علاقوں میں قائم سرکاری ڈسپنسریوں میں بھی صفائی کا بالکل خیال نہیں رکھا جاتا‘۔

ان کے مطابق، ’چونکہ دیہی علاقوں میں کم عمری کی شادیوں کا رجحان ہے، لہٰذا ایک کم عمر لڑکی جس کا جسم کمزور ہو، اور جس کا پیدا ہونے والا بچہ بھی کمزور ہو، مختلف جراثیموں کا آسان ہدف بن سکتے ہیں جو جان لیوا انفیکشنز پیدا کرسکتے ہیں‘۔

شعور و آگاہی بھی ضروری

ڈاکٹر سارہ کے مطابق صحت سے متعلق بڑے پیمانے پر شعور و آگاہی کے پھیلاؤ کی بھی ضرورت ہے اور اس ضمن میں خصوصی پروگرامز بنا کر حکومت اور عوام دونوں اپنا کردار ادا کریں۔

انہوں نے کہا، ’دیہی علاقوں میں کم عمری کی شادیوں کے خلاف تعلیم دینے کی ضرورت ہے۔ یہ عمل ایک کم عمر لڑکی کو موت کے منہ میں دھکیلنا ہے کیونکہ کم عمری میں بچوں کی پیدائش نہ صرف ماں بلکہ بچے کی صحت کے لیے بھی نہایت خطرناک ہے‘۔

مزید پڑھیں: کم عمری کی شادیاں پائیدار ترقی کے لیے خطرہ

ان کے مطابق کم عمری کی شادیاں بے شمار امراض میں مبتلا کرسکتی ہیں۔ بعض اوقات نو عمر لڑکیاں بچوں کی پیدائش کے دوران جان کی بازی بھی ہار جاتی ہیں۔

انہوں نے کہا، ’نہ صرف حکومت بلکہ معاشرے میں بسنے والے ہر شخص کو اپنی ذمہ داری سمجھنے کی ضرورت ہے۔ اسی صورت میں ہم ایک صحت مند معاشرہ تشکیل دے سکتے ہیں‘۔

ذہنی امراض کا سدباب اولین ترجیح

ملک کے بدلتے حالات، دہشت گردی، غربت، بے روزگاری اور مختلف معاشرتی مسائل کے باعث لوگوں کی بڑی تعداد ذہنی امراض میں مبتلا ہو رہی ہے اور ماہرین کے مطابق ان امراض کے سدباب کو اولین ترجیح دینی ضروری ہے۔

کراچی میں ذہنی امراض کے اسپتال کاروان حیات کے ماہر نفسیات ڈاکٹر سلیم احمد کا کہنا ہے، ’یوں تو صحت ویسے ہی ایک نظر انداز شدہ شعبہ ہے لہٰذا باوجود اس کے، کہ ذہنی امراض کا پھیلاؤ تیزی سے جاری ہے، یہ توقع کرنا بے فائدہ ہے کہ حکومت اس شعبے کی طرف خصوصی توجہ کرے‘۔

انہوں نے عالمی ادارہ صحت کی رپورٹ کا حوالہ دیتے ہوئے کہا کہ دنیا کا ہر تیسرا شخص ڈپریشن کا شکار ہے جو سب سے عام ذہنی مرض ہے۔ اس شعبے میں ہنگامی طور پر اصلاحات کرنے اور توجہ دینے کی ضرورت ہے کیونکہ بہت جلد یہ دنیا کی بڑی بیماریوں میں سے ایک بن جائے گی۔

مزید پڑھیں: ڈپریشن کا شکار افراد کی مدد کریں

ڈاکٹر سلیم کے مطابق ذہنی امراض پر کام شروع کرنے کے لیے سب سے پہلا قدم تو اس کے بارے میں زیادہ سے زیادہ آگاہی کا فروغ ہے۔ ’آج بھی کسی سے کہا جائے کہ کسی ماہر نفسیات کے پاس جاؤ، تو وہ ناراض ہوجاتا ہے کہ کیا تم مجھے پاگل یا نفسیاتی سمجھتے ہو‘۔

ان کا کہنا تھا کہ ذہنی امراض کے حوالے سے بڑے پیمانے پر لوگوں میں شعور پھیلانے کی ضرورت ہے کہ یہ کوئی ہوا نہیں، عام اور قابل علاج مرض ہے۔ ’آج بھی اگر کوئی شخص کسی دماغی بیماری کا شکار ہوجائے تو اسے جن بھوت کا اثر سمجھ کر جعلی پیر فقیروں کے چکر لگائے جاتے ہیں۔ لوگوں کو علم ہی نہیں کہ دماغی امراض بھی اب ایسے ہی عام ہوگئے ہیں جسیے نزلہ، زکام یا بخار‘۔

ان کے مطابق جس طرح حکومت خاندانی منصوبہ بندی، ایڈز یا ڈینگی سے بچاؤ کے لیے آگاہی مہمات چلاتی ہے، اسی طرح ذہنی امراض کے بارے میں بھی معلومات کو عام کرنے کی ضرورت ہے۔

مزید پڑھیں: دماغی امراض کے بارے میں مفروضات اور ان کی حقیقت

ڈاکٹر سلیم کا کہنا تھا کہ اگر ابتدائی مرحلے میں ذہنی امراض کی تشخیص کرلی جائے تو باآسانی ان کا علاج ہوسکتا ہے جس کے بعد مریض صحت مند ہو کر معمول کی زندگی گزار سکتا ہے۔ ’لیکن بات وہی کہ ذہنی مرض کو عام مرض کی طرح سمجھ کر ڈاکٹر کے پاس جایا جائے‘۔


ماہرین طب کو امید ہے کہ اگر حکومت شعبہ صحت کو اہم خیال کرتے ہوئے نہ صرف بجٹ کا ایک خطیر حصہ اس مد میں مختص کرے، بلکہ اس بجٹ کے استعمال میں ذہانت، دور اندیشی اور ایمانداری سے بھی کام لے تو کوئی وجہ نہیں کہ یہ شعبہ بہتری کی طرف گامزن ہوجائے۔


اگر آپ کو یہ خبر پسند نہیں آئی تو برائے مہربانی نیچے کمنٹس میں اپنی رائے کا اظہار کریں اور اگر آپ کو یہ مضمون پسند آیا ہے تو اسے اپنی فیس بک وال پر شیئر کریں۔

Comments

comments

یہ بھی پڑھیں