وزیرخزانہ محمد اورنگزیب نے کہا ہے کہ کل اقتصادی سروے پیش کیا جائے گا جس کے بعد چیزیں واضح ہو جائیں گی۔
سینیٹر محسن عزیز کے پیٹرولیم مصنوعات کی قیمتوں میں اضافے سے متعلق توجہ دلاؤنوٹس پر جواب دیتے ہوئے وزیر خزانہ نے کہا کہ خلیج میں کشیدگی کی وجہ سے اثرات مرتب ہوئے تاہم وزیراعظم ، فیلڈ مارشل اور ڈپٹی وزیراعظم کوششیں کررہے ہیں۔
محمد اورنگزیب نے بتایا کہ اب ہم عوام پر بوجھ بہت کم ڈال رہے ہیں ہم نےعوام کو 129ارب روپےکی سبسڈی دی جس پر تنقید کا سامنا بھی کرنا پڑا، ترقیاتی بجٹ کٹ کر کے سبسڈی دی گئی، فیصلہ ہوا کہ ٹارگٹڈ سبسڈی دی جائےگی، وزرائےاعلیٰ کی مدد اور مشاورت کے بغیر ٹارگٹڈ سبسڈی نہیں دی جاسکتی تھی۔
انہوں نے کہا کرائے بڑھنے سے بچانے کے لئے ٹرانسپورٹرز کو سبسڈی دی گئی، ابھی تک 5.4ارب روپے تقسیم ہو چکے ہیں اور 8لاکھ موٹر سائیکل مالکان کو سبسڈی دی گئی جب کہ کسانوں کو 4ارب روپےسے زائد کی سبسڈی دی گئی۔
ان کا کہنا تھا کہ خلیج کی کشیدگی کل بھی ختم ہو جائے تو آئندہ سال اثرات جائیں گے، پچھلے سال اکتوبر کا سیلاب 2022کے مقابلے زیادہ شدت کا تھا پوری کوشش کر رہے ہیں کہ جہاں زیادہ اثر آرہا ہے وہاں لیوی کم کر لیں۔


