The news is by your side.

Advertisement

لندن : 24 منزلہ عمارت میں آتشزدگی، ہلاکتیں 30 ہوگئیں

لندن : لندن کے معروف 24 منزلہ گرین فل ٹاور میں لگنے والی آگ کے باعث ہونے والی ہلاکتوں کی تعداد 30 ہوگئی، متعدد افراد تاحال لاپتا ہیں، ہلاکتوں میں اب بھی اضافے کا خدشہ ہے۔

تفصیلات کے مطابق مغربی لندن میں منگل کی رات 24 منزلہ رہائشی عمارت میں اچانک شعلے بھڑک اٹھے۔ دوسری منزل سے بلند ہوتے شعلوں نے دیکھتے ہی دیکھتے خوفناک شکل اختیار کرلی۔

برطانوی میڈیا کے مطابق گرینفل ٹاور میں جس وقت آگ لگی اس وقت لوگ سورہے تھے۔ عینی شاہدین کے مطابق لوگ آگ سے بچنے کے لیے ادھر ادھر بھاگتے اور مدد کیلیے پکارتے رہے۔

انیسویں اور بیسویں منزل سے لوگ موبائل ٹارچ کے ذریعے مدد کا سگنل دیتے رہے خوفناک آگ کو بجھانے کے لیے 40 فائر انجن اور دو سو فائر فائٹرز نے حصہ لیا لیکن آگ اتنی خطرناک تھی کہ شعلے ٹھنڈے ہوتے ہوتے کئی گھنٹے گزر گئے۔

آتشزدگی میں اب تک 30 افراد کی ہلاکتوں کی تصدیق کی گئی ہے، متعدد افراد تاحال لاپتا ہیں،عمارت میں لوگوں کی تلاش کا کام جاری ہے۔ حکام کے مطابق عمارت کی آخری تین منزلوں سے کسی کو بھی ریسکیو نہیں کیا جا سکا جبکہ ہلاکتوں میں اضافے کا خدشہ بھی ظاہر کیا جارہا ہے۔

لندن پولیس کا کہنا ہے کہ آتشزدگی میں ہلاک ہونے والے افراد کی شناخت شاید نہ ہوسکے، دوسری جانب غیرتسلی بخش امدادی کارروائی پرلوگ پھٹ پڑے۔ انہوں نے رہائشی عمارتیں محفوظ بنانے کا مطالبہ کیا ہے۔

آگ سے جاں بحق شامی پناہ گزین تئیس سالہ محمد الحاج علی کے بھائی کا کہنا ہے محمد کی جان بچانے کوئی نہیں آیا۔ برطانوی وزیراعظم ٹریزا مے نے حادثے کی مکمل تحقیقات کا حکم دیتے ہوئے کہا ہے کہ آتشزدگی کے بعداٹھنے والے سوالات کے جواب جاننا عوام کا حق ہے۔


مزید پڑھیں : لندن میں 24منزلہ گرینفل ٹاورمیں آتشزدگی


فائر بریگیڈ نے بڑی تعداد میں زخمیوں کو عمارت سے نکالا لیکن لندن کے میئر صادق خان کا واقعے کو پریشان کن اور تباہ کن قرار دیتے ہوئے کہنا ہے کہ ابھی تک بڑی تعداد میں لوگ لاپتہ ہیں۔

مذکورہ عمارت 130 رہائشی فلیٹس پر مشتمل ہے جس میں ہزاروں افراد رہائش پذیر تھے۔ میڈیا رپورٹس کے مطابق آگ شارٹ سرکٹ کے باعث لگی۔

یہ پڑھیں: لندن آتشزدگی: سحری کیلئے اٹھے مسلمان لوگوں کی جانیں بچانے والے ہیرو

آگ لگنے کے بعد عمارت کے مسلمان مکینوں کی جانب سے دیگر پڑوسیوں کی بہترین امداد نے میڈیا کی توجہ یک دم مسلمانوں کی جانب مبذولی کرالی، دنیا بھر میں ان کے اس اقدام کی تعریف کی جارہی ہے۔

Print Friendly, PDF & Email

Comments

comments

یہ بھی پڑھیں