The news is by your side.

Advertisement

برہان وانی کا آج پہلا یوم شہادت ، ٹوئٹر پر “ٹربیوٹ ٹو برہان وانی” ٹاپ ٹرینڈز میں شامل

سری نگر : کشمیر کی آزادی کے لئے جام شہادت نوش کرنے والے نوجوان حریت کمانڈر برہان وانی کا یوم شہادت آج منایا جارہا ہے، ٹوئٹر پر ٹربیوٹ ٹو برہان وانی ٹاپ ٹرینڈز میں شامل ہوگیا۔

شہید برہان وانی 19 ستمبر 1994 میں جموں کشمیر کے ایک گاؤں شریف آباد میں پیدا ہوئے ، برہان وانی نے صرف 15سال کی عمر میں گھر سے بھاگ کر تحریک آزادی کشمیر میں شرکت کا فیصلہ کیا اور ایک مسلح تنظیم میں شامل ہوگئے اور ایک سال بعد حزب المجاہدین میں شامل ہو گئے۔

برہان وانی کے بھائی خالد وانی کو 2015 میں بھارتی فوجیوں نے ترال کے علاقے میں اس وقت ایک جعلی مقابلے میں شہید کردیا تھا، جب وہ اپنے تین دوستوں کے ہمراہ اپنے بھائی سے ملنے جارہے تھے۔


بڑے بھائی کی شہادت کے بعد برہان وانی نے کھل کر سوشل میڈیا کے ذریعے کشمیری نوجوانوں کو بندوق اٹھانے اور بھارت کیخلاف مسلح جدوجہد کی راہ اپنانے کی بھرپور مہم چلائی، جس کے جواب درجنوں نوجوان بھارتی فوج کیخلاف اس مہم میں شامل ہونے لگے۔

برہان وانی کو گزشتہ سال بھارتی فوجیوں نے کوکر ناگ قصبے کے بم ڈورہ گاؤں میں ایک تصادم کے دوران دو ساتھیوں سمیت شہید کیا گیا تھا۔

وانی کی شہادت کے بعد کشمیری مزاحمت کی تاریخ میں سب سے طویل ترین مظاہروں کا آغاز ہوا، بھارتی فوجیوں کی جانب سے ایک سال میں 133 افراد ہلاک اور 20 ہزار زخمی ہوگئے، 1247 زخمی ایسے ہیں، جو پیلیٹس گنز کا نشانہ بنے اور اپنی بینائی سے محروم ہوگئے ، جبکہ 5ہزار افراد کو گرفتار کیا گیا۔

دوسری جانب بھارت کےغاصبانہ قبضے کیخلاف کشمیریوں کی دہائیوں پرمحیط جدوجہد میں نئی روح پھونکے والے برہان مظفروانی شہید کو آج دنیا بھر کے لوگ خراج عقیدت پیش کر رہے ہیں، سوشل میڈیا پرلوگ شہید برہان کی کاوشوں کو سراہا رہے ہیں۔

ٹوئٹر پر بائیس ہزار ٹوئٹس کے ساتھ ٹربیوٹ ٹوبرھان وانی ٹاپ ٹرینڈ ہے۔ ٹوئیٹرصارفین برہان کی تصاویر شیئر کرکے خراج عقیدت پیش کر رہے ہیں۔

ایک ٹوئٹ میں کہا گہا کہ برہان آج بھی زندہ ہے۔

ایک اورٹوئٹ میں کہا گیا برہان کی قربانی اور جدوجہد کو کبھی بھلایا نہیں جاسکتا۔

ٹوئٹر پر برہان کی قربانی کو عوام قوم کی حیات قرار دے رہے ہیں جبکہ برہان کو جدوجہدکشمیر میں نئی روح پھونکنے والا بھی قراد دیا جارہا ہے، ٹوئیٹرصارفین برھان کی تصاویرشیئرکرکےخراج عقیدت پیش کر رہے ہیں۔

Print Friendly, PDF & Email

Comments

comments

یہ بھی پڑھیں