The news is by your side.

Advertisement

روہنگیا مہاجرین کی نقل و حرکت محدود، بنگلہ دیش کا نئے کیمپ تعمیر کرنے کا اعلان

کاکس بازار: بنگلہ دیشی حکومت نے مہاجرین کی نقل و حرکت پر پابندی عائد کرتے ہوئے ان کے لیے 10 روز میں نئے کمیپ تعمیر کرنے کا اعلان کردیا ساتھ ہی  کیمپوں میں آنے والے بے گھر روہنگیا مسلمانوں کی تعداد 4لاکھ 10 ہزار ہوگئی۔

بی بی سی کے مطابق بنگلہ دیشی حکومت نے میانمار سے ہجرت کرکے اپنے سرحدی شہر کاکس بازار آنے والے 4 لاکھ سے زائد روہنگیا مہاجرین کی بنگلہ دیش آمد سمیت کہیں بھی نقل و حرکت پر پابندی عائد کرتے ہوئے انہیں نئے کیمپوں تک محدود کرنے کی پالیسی کا اعلان کردیا۔

پالیسی کے مطابق مہاجرین کو حکومت کی جانب سے متعین کردہ نئے کیمپوں میں ہر حال میں رہنا ہوگا اور وہ کہیں اور سفر نہیں کرسکیں گے۔

ساتھ ہی بنگلہ دیشی حکومت نے اعلان کیا ہےکہ امدادی ادارے فوج کی مدد سےچار لاکھ سے زائد روہنگیا مسلمان مہاجرین کے لیے کاکس بازار کے نزدیک نئے 14 ہزار عارضی پناہ گاہیں بنائیں گے ہر پناہ گاہ میں 6 خاندانوں کو رہائش دی جائے گی۔

دوسری جانب میانمار سے جان بچا کر بنگلہ دیشی کیمپوں میں آنے والے روہنگیا مسلمانوں کی تعداد 4 لاکھ سے تجاوز کرگئی۔

اقوام متحدہ نے ہفتے کو جاری بیان میں کہا ہے کہ یومیہ 18 ہزار روہنگیا باشندے میانمار سے فرار ہو کر بنگلہ دیشی کیمپوں میں آرہے تھے، اب تک ان کی تعداد 4 لاکھ 10 ہزار ہوچکی ہے اور اس تعداد میں اضافہ ہوتا جارہا ہے۔

اقوام متحدہ کا کہنا ہے کہ میانمار میں پر تشدد واقعات کے بعد چار لاکھ سے زیادہ روہنگیا مسلمانوں کی اقلیت نے بنگلہ دیش میں پناہ لی ہے جبکہ بنگلہ دیش میں پہلے ہی روہنگیا پناہ گزینوں کی بڑی تعداد موجود ہے۔

بنگلہ دیش کے مقامی روزنامے میں شائع ہونے والی رپورٹ کے مطابق حکام نے روہنگیا مہاجرین کے لیے زمین خالی کراکے مختص کردی ہے جہاں 80 ہزار خاندانوں کو رہائش دی جائے گی، پناہ گزینوں کا یہ نیا کیمپ 8 کلو میٹر کے رقبے پر بنایا جائے گا اور یہ روہنگیا مہاجرین کے پہلے سے آباد کیمپ کے قریب ہے۔

اخبار کے مطابق اس کیمپ میں 8500 عارضی بیت الخلا اور عارضی مکان بنائے جائیں گے۔

بنگلہ دیشی حکام نے اے ایف پی کو بتایا کہ حکومت پر امید ہے کہ اس کیمپ میں 4 لاکھ افراد پناہ لے سکتے ہیں اور اس کی تعمیر 10 روز میں مکمل ہو جائے گی۔

انھوں نے بتایا کہ ہفتے کو روہنگیا پناہ گزینوں کے بچوں کو روبیلا اور پولیو ویکسین پلانے کی مہم شروع کی گئی ہے۔

امداد تقسیم کرنے کے دوران بھگدڑ، دو بچے اور ایک خاتون جاں بحق

اقوام متحدہ نے بتایا کہ جمع کو ایک امدادی ادارے کی جانب سے کمیپ میں امداد تقسیم کرنے کے دوران بھگدڑ مچنے سے دو بچے اور خواتین جاں بحق ہوگئے۔

Print Friendly, PDF & Email

Comments

comments

یہ بھی پڑھیں