اسلام آباد (18 اپریل 2026): سابق وزیر اعظم عمران خان کی اہلیہ بشریٰ بی بی نے آنکھ کی سرجری کے بعد 190 ملین پاؤنڈ کیس میں سزا معطل کروانے کی کوشش شروع کر دی۔
سابق خاتون اوّل نے اسلام آباد ہائیکورٹ میں ایک درخواست دائر کی جس میں بشریٰ بی بی نے میڈیکل ایمرجنسی کی وجہ سے سزا معطلی کی درخواست پر جلد فیصلہ کرنے اور ان کے وکلا و فیملی کی رسائی دینے کی استدعا کی۔
بیرسٹر سلمان صفدر نے اسلام آباد ہائیکورٹ میں درخواست دائر کر دی جس میں مؤقف اختیار کیا گیا کہ بشریٰ بی بی کی آنکھ کی سرجری راولپنڈی کے الشفا آئی اسپتال میں کی گئی جبکہ سرجری سے پہلے کسی فیملی ممبر کو آگاہ نہیں کیا گیا۔
یہ بھی پڑھیں: بشریٰ بی بی کی آنکھ کی سرجری مکمل، اسپتال سے دوبارہ اڈیالہ جیل منتقل
درخواست میں کہا گیا کہ قانونی طور پر وکیل اور فیملی ممبر کو آگاہ کرنا ضروری ہے، بغیر کسی کو آگاہ کئے بشریٰ بی بی کی زندگی کو خطرات لاحق ہو سکتے ہیں، اچانک فیملی کو بتایا گیا جس کے بعد فیملی نے جیل میں ملاقات کی، فیملی نے ملاقات کے بعد دیکھا کہ ان کو کالی عینک لگا کر بیٹھا دیا گیا ہے۔
اس میں مزید کہا گیا کہ ملاقات کے بعد فیملی کے مطابق بشریٰ بی بی کی میڈیکل کنڈیشن سیریس نوعیت کی ہے، ڈاکٹرز یا جیل حکام کی جانب سے ابھی تک کسی قسم کی تفصیلات فراہم نہیں کی گئیں، وہ ایک خاتون ہیں اور ان کی سزا بھی 7 سال ہے جو کم سزا کے زمرے میں آتی ہے، جیل حکام نے عدالتی حکم کے باوجود مجھے جیل میں ان تک رسائی نہیں دی۔
درخواست میں استدعا کی گئی کہ 15 مئی 2025 سے زیر التوا بشریٰ بی بی کی سزا معطلی کی درخواست پر فیصلہ کریں، سابق خاتون اوّل تک فیملی اور وکیل کو رسائی دی جائے۔


