The news is by your side.

Advertisement

کاروباری اوقات 9 تا 7 بجے کرنے تقاریب میں ون ڈش کا فیصلہ

کراچی: وزیر اعلیٰ سندھ سید مراد علی شاہ نے کہا ہے کہ شہر قائد میں تمام افراد کو وقت کی پابندی کا خیال رکھتے ہوئے دیانت داری سے کام کرنا ہوگا اور کاروباری مراکز صبح جلدی کھول کر شام کو جلدی بند کرنا ہوں گے ساتھ ہی شادی میں ون ڈش کے قانون پر جلد عمل درآمد کروایا جائے گا۔

وزیر اعلیٰ سندھ نے چیمبر آف کامرس میں تاجروں سے ملاقات کے بعد خطاب کرتے ہوئے کہا کہ ’’کراچی میں ایسا ماحول پیدا کیا گیا کہ تاجر وں نے اپنے کاروبار بیرونِ ملک منتقل کیے تاہم اب شہر میں ترقیاتی کام شروع ہوگیا ہے اور صوبہ ترقی کی منازل طے کررہا ہے‘‘۔

انہوں نے کہا کہ ’’مجھے اچھے افسران کی ضرورت ہے جس کے لیے وفاقی حکومت کو خط لکھ دیا گیا ہے، اب تمام افراد کو وقت کی پابندی کرتے ہوئے کام کرنا ہوگا کیونکہ جو شخص وقت کی اہمیت کو نہیں سمجھے گا اُس کی کسی کو ضرورت نہیں ہوگی‘‘۔

مراد علی شاہ نے کہا کہ وزیر اعلیٰ کا منصب سنبھالنے کے بعد سے اسمبلی کا اجلاس بھی عین وقت پر منعقد کرنے کی ہدایت جاری کیں جس پر عمل درآمد کو بھی یقینی بنوایا، وقت کی پابندی کے حوالے سے اراکین اسمبلی کا مل جلا رجحان سامنے آیا تاہم مجھے کوئی پذیرائی ملے یا نہ ملے مگر سب کو وقت کی پابندی کرنی ہوگی۔

وزیر اعلیٰ سندھ کا کہنا تھاکہ ’’اب کاروباری حضرات کو بھی وقت کی پابندی کرتے ہوئے صبح 9 بجے دکانیں کھول کر شام 7 بجے کاروباری مراکز ہر صورت بند کرنے ہوں گے، ماضی میں اس طرح کے اقدامات کی کوشش کی گئی مگر وہ ناکام نظر آئے تاہم اس بار اس پر مکمل عمل درآمد کرواتے ہوئے رات گئے کاروبار کرنے کو قصہ ماضی بنا دیا جائے گا‘‘۔

پڑھیں: شاہراہ فیصل پر ہیوی ٹریفک رات 11 بجے تک ممنوع رہے گی

 شادی کی تقریبات کے حوالے سے وزیر اعلیٰ نے کہا کہ ’’شادی کی تقریبات میں ون ڈش کے حوالے سے قانون سازی کی جائے گی تاکہ عوام کے فضول کے اخراجات سے بچایا جاسکے‘‘۔ وزیر اعلیٰ سندھ سید مراد علی شاہ نے اعلانات تو کیے تاہم عمل درآمد کے حوالے سے کچھ نہیں بتایا۔

یاد رہے وزیر اعلیٰ سندھ کی زیر صدرات اجلاس میں موٹرسائیکل سواروں اور پیچھے بیٹھنے والوں کے لیے لازمی ہیلمٹ لگانے کے احکامات جاری گیے گئے تھے اور قانون شکنی کرنے والوں کو ایک ہزار روپے جرمانہ کی تجویز بھی دی گئی تھی۔

Print Friendly, PDF & Email

Comments

comments

یہ بھی پڑھیں