دنیا کی کئی مال دار شخصیات جنھیں ہم کارخانہ دار اور بطور تاجر جانتے ہیں یا ان کا نام سن رکھا ہے، مطالعہ کا شوق رکھتی ہیں اور ان کے پاس اپنے پسندیدہ موضوعات پر سیکڑوں کتابیں بھی موجود ہیں۔ یہ شخصیات فارغ اوقات میں کتابیں پڑھتی ہیں اور اسے اپنے لیے بہت اہم اور مفید شغل سمجھتی ہیں۔ امریکا کے صدر روز ویلٹ کے بارے میں کہا جاتا ہے کہ وہ ایک ہی دن میں کئی کتابیں پڑھ لیتے تھے۔ انھوں نے اپنی آپ بیتی میں صبح سے شام گئے تک متعدد کتابیں پڑھ لینے کی عادت کا ذکر بھی کیا ہے۔
آج کتب بینی کا رجحان کم ہوگیا ہے اور بچّوں اور نوجوانوں کا بڑا وقت کمپیوٹر اور موبائل اسکرین پر گزر رہا ہے۔ بڑوں کو وقت کی کمی کی شکایت ہے۔ سائنسی تحقیق کے مطابق اسکرین کی وجہ سے اب ارتکازِ توجہ کا مسئلہ عام ہورہا ہے۔ لیکن اب بھی اگر ہم بڑی اور کام یاب شخصیات کے معمولات اور ان کی مثبت عادات کو جانیں تو معلوم ہوگا کہ دنیا کے کام یاب لوگ باقاعدگی سے مطالعہ کرتے ہیں اور خاص طور پر اپنے شعبے اور پیشے سے متعلق معلومات پر مبنی کتابیں پڑھتے ہیں۔ یہاں ہم اُن کتابوں کا تذکرہ کر رہے ہیں جو کاروبار میں ترقی اور بطور بزنس مین کام یابی سے متعلق بہت کچھ سکھاتی ہیں۔ یہ کتابیں بتاتی ہیں کہ کیسے کسی کمپنی کا نام اور ساکھ بنائی جاسکتی ہے، یا مسابقت کی دوڑ کس طرح جیتی جائے اور جدید دور میں اپنے کام اور کاروبار کو کس طرح منافع بخش بنایا جائے۔
Lies, Damned Lies, and Marketing
اس کتاب میں ان لوگوں کے لیے آئیڈیاز اور مفید باتیں موجود ہیں جو اپنا کاروبار کر رہے ہیں اور خواہش مند ہیں کہ وہ اپنے برانڈ یا مصنوعات کی تشہیر مؤثر طریقے سے کرسکیں اور وسیع پیمانے پر کام کریں۔ ہم جانتے ہیں کہ کاروبار کی کام یابی میں مارکیٹنگ کا عمل دخل کلیدی حیثیت کا حامل ہے، لیکن اتل منوچا جیسے ماہر سمجھتے ہیں کہ مارکیٹنگ کے ساتھ کچھ دوسری چیزیں بھی کسی کاروبار کو وسعت دے کر نفع بخش بناتی ہیں۔ یہ کتاب اتل منوچا کی ہے جس میں انہی نکات کو وہ زیر بحث لائے ہیں۔ مصنّف کئی ملٹی نیشنل کمپنیوں میں مختلف کلیدی عہدوں پر کام کرچکے ہیں اور اپنی کتاب میں انھوں نے بھرپور تشہیر کے باوجود بڑے پیمانے پر نتائج کے حصول میں ناکامی کو موضوع بنایا ہے۔
The Exit-Strategy Playbook
ایڈم کوفی کی یہ کتاب کسی بھی کمپنی کو منافع بخش بنانے اور ایک خاص سطح پر لا کر اسے فروخت کردینے کے بنیادی قوانین سے متعلق ہے۔ دنیا میں بہت سے کاروباری افراد یہ کرتے ہیں کہ چند سال بعد اپنا منافع بخش کاروبار کسی کو فروخت کرکے نئی کمپنی کھول لیتے ہیں۔ بعض اوقات وہ ایسا کسی ذاتی مسئلے، کاروباری الجھنوں کی وجہ سے کرتے ہیں اور کبھی انھیں اپنی آزمائش مقصود ہوتی ہے۔ یہ لوگ چیلنجز کا سامنا کرنے کے عادی ہوتے ہیں اور تبدیلی کی خواہش رکھتے ہیں۔ اسی لیے وہ ایک منافع بخش کاروبار کو فروخت کرکے آگے بڑھتے ہیں۔ مصنّف نے اس کتاب میں بتایا ہے کہ ایسے بزنس مین کن اصولوں اور طریقوں پر عمل کرکے اپنی کمپنی کو کسی بھی سرمایہ کار کے لیے زیادہ پُرکشش بنا سکتے ہیں تاکہ وہ اسے خریدنے کے لیے رابطہ کریں۔ ایڈم مرفی نے بتایا ہے کہ ایک شان دار فریم ورک ترتیب دے کر کسی کو بھی اپنی کمپنی خریدنے پر آمادہ کیا جاسکتا ہے۔
Brands Don’t Win
اسٹین برنارڈ کی یہ کتاب بتاتی ہے کہ وہی کمپنیاں اپنے اپنے شعبے میں نمایاں ہوتی ہیں جو کسی طرح دوسروں سے مختلف انداز اپناتی ہیں، اور غیر روایتی طرز پر کام کرتے ہوئے ترقی کے مدارج طے کرتی ہیں۔ اسٹین برنارڈ مثال دیتے ہیں کہ اگر اسٹار بکس اور پیلوٹون جیسے معروف ناموں نے بھی اپنے اپنے شعبہ کے متعین کردہ اصولوں اور مخصوص طریقۂ کار کے تحت کاروبار کیا ہوتا تو وہ کبھی نمایاں نہ ہوتیں۔
Detox
یہ کتاب میلنی پمپ کی ہے جو ایک زرخیز ذہن کی مالک اور بہترین مصنّف کے طور پر مشہور ہیں۔ اس کتاب میں انھوں نے ان تمام عناصر، اجزاء، رویّوں اور ثقافتی رجحانات کی نشان دہی کی ہے جو کسی بھی کمپنی کو کام یابی سے دور کرسکتی ہیں۔ وہ ان عناصر اور مختلف عوامل کو ترقی کی راہ میں رکاوٹ اور انفرادیت کے عمل میں زہر قرار دیتی ہیں۔
اے آر وائی نیوز کی ڈیجیٹل ڈیسک کی جانب سے شائع کی گئی خبریں


