The news is by your side.

Advertisement

شرح سود میں اضافے پر تاجر اور کاروباری برادری کے شدید تحفظات

کراچی: تاجر برادری اور کاروباری شخصیات نے اسٹیٹ بینک کی مانیٹری پالیسی پر تحفظات کا اظہار کرتے ہوئے اضافے کو مسترد کردیا۔

اے آر وائی نیوز کے مطابق اسٹیٹ بینک آف پاکستان کی جانب سے آئندہ دو ماہ کے لیے مانیٹری پالیسی کا اعلان اور شرح سود میں 1.50 فیصد اضافہ کیا گیا، جس کے بعد آئندہ 2ماہ کیلئے شرح سود 8.75 فیصد مقرر کی گئی ہے۔ اس سےقبل اسٹیٹ بینک کی جانب سےشرح سود7.25 فیصد مقرر تھی۔

تاجر برادری اور کاروباری شخصیات نے شرح سود میں اضافے کو مسترد کرتے ہوئے اپنے شدید تحفظات کا اظہار کیا۔

اے آر وائی نیوز سے گفتگو کرتے ہوئے معروف کاروباری شخصیت عقیل کریم ڈھیڈی نے کہا کہ ’شرح سود ڈبل فیگر میں داخل ہوا تو مسائل پیدا ہوجائیں گے، ہماری توقع تھی یہ شرح سود8.5فیصد مقرر کریں گے۔

انہوں نے کہا کہ شرح سود میں اضافہ حکومت کی مجبوری تھی ورنہ انھیں  آئی ایم ایف میں مسائل ہوتے، حکومت کو چاہیے اگلی مانیٹری پالیسی میں شرح سود میں مزید اضافہ نہ کرے۔

مزید پڑھیں: اسٹیٹ بینک نے شرح سود میں اضافہ کر دیا

کاروباری شخصیت عارف حبیب نے کہا کہ ’شرح سود میں اضافے کے برے اثرات ہوں گے، اچانک اتنا زیادہ اضافہ نہیں کرنا چاہیے تھا، یہ فیصلہ سخت اورسرمایہ کاری کے خلاف ہے‘۔

کراچی چیمبر آف کامرس کے سابق چیئرمین زبیر میمن موتی والا نے شرح سود میں اضافے کو مسترد کرتے ہوئے کہا کہ ’اس اقدام سے سرمایہ کاری پر اچھا اثر نہیں پڑے گا، انڈسٹری کی پروڈکشن مہنگی ہوجائےگی، حالات کو  دیکھتے ہوئے فیصلہ کیا جاتا کیونکہ یہ  پاکستان کے عوام ور معیشت کےلیے اچھاقدم نہیں ہے‘۔

علاوہ ازیں معروف کاروباری شخصیت، سابق وزیر خزانہ اور مسلم لیگ ن کے رہنما مفتاح اسماعیل نے کہا کہ ’ شرح سودکے بڑھنے سے صنعتی پیداوار میں کمی ہوگی‘۔ انہوں نے حکومت سے مطالبہ کیا کہ  درآمدی اور دیگر شعبہ جات کو سستی گیس فراہم کی جائے اور بجلی کے نرخوں میں بھی کمی کی جائے۔

Comments

یہ بھی پڑھیں