site
stats
سندھ

ضمنی الیکشن: پی ایس114کے تمام پولنگ اسٹیشن حساس قرار

کراچی : پی ایس 114 میں ہونے والے ضمنی انتخاب میں تمام پولنگ اسٹیشن انتہائی حساس قرار دے دیئے گئے ہیں، پی ایس 114 کراچی میں ضمنی انتخاب نو جولائی کو ہوگا۔

تفصیلات کے مطابق سندھ کے حلقے پی ایس 114 کراچی میں ضمنی انتخاب نو جولائی کو ہوگا ۔یہ نشست سپریم کورٹ کی طرف سے مسلم لیگ(ن) کے عرفان مروت کا انتخاب کالعدم قراردئیے جانے کے بعد خالی ہوئی تھی۔

حلقہ میں بنیادی طور پر مقابلہ پیپلز پارٹی کے سینیٹر سعید غنی، مسلم لیگ ن کے علی اکبر گجر، ایم کیو ایم پاکستان کے کامران ٹیسوری، تحریک انصاف کے انجینئر نجیب ہارون کے درمیان ہوگا۔

ضمنی انتخاب کے لیے حلقے میں بانوے پولنگ سٹیشن تشکیل دیئے گئے ہیں جس کے لیے 818رکنی عملہ پولنگ کے روز اپنی خدمات انجام دے گا حلقہ پی ایس114کے ضمنی انتخاب کے لئے تمام 92پولنگ اسٹیشنز حساس قرار دیا گیا ہے۔

پولنگ کے لئے 92پالنگ اسٹیشن اور 368بوتھ بنائے گئے ہیں ۔ جہاں پر 829افراد پر مشتمل انتخابی عمل پولنگ کی نگرانی کے فرائض سر انجام دے گا۔

صوبائی اسمبلی کے حلقے 114کے ضمنی انتخاب کے معرکہ کے حوالے سے مسلم لیگ فنکشنل نے پی ٹی آئی امیدوار کی حمایت کا اعلان کر دیا ہے جبکہ جمعیت علمائے پاکستان نے کراچی کے حلقے پی ایس 114پرضمنی الیکشن میں پیپلز پارٹی کے امیدوار سعید غنی کی حمایت کا اعلان کیا ہے۔

دوسری جانب الیکشن کمیشن نے پولیس اور رینجرز کے ساتھ حلقے میں فوج تعینات کرنے کی بھی سفارش کی ہے۔ ضابطہ اخلاق پر سختی سے عملدرآمد کے لئے ڈی آر او نے تمام امیدواروں کو طلب کرلیا ہے۔


پی ایس 114 ایم کیو ایم، پی پی، تحریک انصاف اور ن لیگ مدمقابل


سپریم کورٹ میں ن لیگ کے عرفان اللہ مروت نے ایم کیو ایم کے عبدالرؤف صدیقی کے خلا ف انتخابی عذرداری کے حوالے سے الیکشن ٹربیونل کے فیصلے کے خلاف درخواست دائر کر رکھی تھی جسے سپریم کورٹ نے خارج کر تے ہوئے حکم دیا کہ حلقہ پی ایس 114میں دوبارہ انتخاب کرائے جائیں۔

Print Friendly, PDF & Email
20

Comments

comments

اس ویب سائیٹ پر موجود تمام تحریری مواد کے جملہ حقوق@2018 اے آروائی نیوز کے نام محفوظ ہیں

To Top