The news is by your side.

Advertisement

سی اے اے جعلی لائسنس کے حامل کپتانوں کے خلاف کارروائی سے گریزاں

کراچی: وفاقی وزیر ہوا بازی کی ہدایت کے باوجود سول ایوی ایشن اتھارٹی (سی اے اے) جعلی لائسنس کے حامل کپتانوں کے خلاف کارروائی سے گریزاں نظر آ رہی ہے۔

اے آر وائی نیوز کے مطابق سول ایوی ایشن اتھارٹی کی جانب سے پی آئی اے کو تاحال جعلی لائسنس ہولڈر پائلٹس کی فہرست فراہم نہ کی جا سکی، قومی ایئرلائن کے سی ای و ایئر مارشل ارشد ملک اب تک 2 بار ڈی جی سی اے اے کو خط لکھ چکے ہیں۔

ذرایع کا کہنا ہے کہ سی اے اے نے حکومت پاکستان کی ہدایت پر پی آئی اے کے 150 پائلٹس کے خلاف انکوائری کی مگر رپورٹ نہیں دی، ترجمان پی آئی اے کا کہنا ہے کہ قومی ایئرلائن نے اپنی انکوائری کے بعد 17 جعلی لائسنس کے حامل پائلٹس کو گراؤنڈ کر کے جہاز اڑانے سے روکا ہوا ہے۔

طیارہ حادثے کی رپورٹ ، مبینہ جعلی لائسنس کے حامل پائلٹس کیخلاف تحقیقات کا دائرہ کار وسیع

ترجمان کے مطابق 17 پائلٹس کو فروری 2019 میں گراؤنڈ کیا گیا تھا، ان 17 پائلٹس کو تقریباً 20 کروڑ روپے اب تک تنخواہوں کی مد میں ادا کیے جا چکے ہیں، تنخواہوں کی مد میں کروڑوں روپے پی آئی اے کو نقصان برداشت کرنا پڑا۔

سپریم کورٹ کا جعلی ڈگری رکھنے والے پائلٹس کے معاملے کا نوٹس، ایئرلائنز سربراہان طلب

پی آئی اے کے ترجمان نے بتایا کہ ایک طرف کروڑوں روپے نقصان برداشت کیا گیا، دوسری طرف دو بار خط لکھنے کے باوجود تاحال سی اے اے نے 150 پائلٹس کی فہرست پی آئی اے کو فراہم نہیں کی۔

ترجمان کا کہنا تھا کہ سول ایوی ایشن اتھارٹی فہرست فراہم کرے گی تو فوری طور پر جعلی لائسنس والے پائلٹس کو گراؤنڈ کر دیا جائے گا۔

Comments

یہ بھی پڑھیں