The news is by your side.

Advertisement

20 سال میں بیٹے کو بڑا کیا، پولیس نے20 منٹ میں مار دیا، مسلم ماں کی دہائی

نئی دہلی: بھارتی ضلع بجنور میں شہریت قانون کے خلاف مظاہرہ کرنے والے 2 مسلم نوجوانوں کو پولیس نے گولیاں مار کر قتل کر دیا۔

تفصیلات کے مطابق بھارتی ضلع بجنور کے علاقے نہٹور میں مودی سرکار کے شہریت قانون کے خلاف مظاہرے کے دوران گولیاں لگنے سے 2 مسلم نوجوان محمد سلیمان اور محمد انس جاں بحق ہوگئے۔

محمد سلیمان یو پی ایس سی کی تیاری کر رہے تھے جبکہ انس اپنے گھر کے اکیلے کمانے والے تھے۔ محمد سلیمان کے اہل خانہ کے مطابق پولیس نے انہیں دھمکایا اور سلیمان کو کسی اور جگہ دفن کرنے کا کہا۔

مقتول سلیمان کے والد زاہد کا کہنا تھا کہ جب ہم اس مٹی میں پیدا ہوئے اور اسی مٹی میں دفن نہیں ہوں گے تو کہاں جائیں گے۔

دوسری جانب مقتول محمد انس کے والد ارشد حسین نے بتایا کہ 20 دسمبر کے دن تقریباََ 3 بجے ہم نماز کی تیاری کر رہے تھے، میرے بیٹے انس نے مجھ سے پوچھا کہ دودھ لے آؤں تو میں کہا کہ ڈیری بند ہے اب نہیں ملے گا جس پر انس نے کہا کہ میں برابر والی گلی سے لے آتا ہوں۔

ارشد حسین نے بتایا کہ جیسے ہی محمد انس نے گلی پار کی ایک گولی سیدھی اس کی آنکھ پر لگی اور اسپتال جاتے جاتے میرے سامنے ہی میرے بیٹے نے دم توڑ دیا۔ محمد سلیمان کی طرح محمد انس کو بھی پولیس نے نہٹور میں دفن کرنے کی اجازت نہیں دی۔

مودی حکومت کا شہریت کا نیا قانون مسلمانوں کیخلاف ہے، ایمنسٹی انٹرنیشل انڈیا

واضح رہے کہ بھارت میں انسانی حقوق کی خلاف ورزیوں سے متعلق ایمنسٹی انٹرنیشل کی سابقہ رپورٹ کے مطابق پرتشدد واقعات میں متاثرین کو یا تو وندے ماترم یا جے شری رام یا جے ہنومان یا پاکستان مردہ باد کہنے یا سر سے ٹوپی اتارنے پر مجبور کیا گیا جبکہ پانچ افراد کو ہجوم کے تشدد میں مارا گیا۔

Comments

یہ بھی پڑھیں