کیلیفورنیا (19 فروری 2026): امریکی ریاست کیلیفورنیا میں برفانی تودہ گرنے سے 9 اسکائرز ہلاک ہو گئے ہیں، یہ افسوس ناک واقعہ نیواڈا کاؤنٹی کی جھیل ٹاہو کے قریب پیش آیا۔
ایسوسی ایٹڈ پریس کے مطابق حکام نے بدھ کو بتایا کہ ریسکیو ٹیموں نے کیلیفورنیا کی جھیل ٹاہو کے قریب بیک کنٹری اسکیئنگ کرنے والے 8 افراد کی لاشیں برآمد کر لیں، جب کہ ایک اور شخص کی تلاش جاری ہے۔
اس سانحے کو تقریباً نصف صدی میں امریکا کا سب سے ہلاکت خیز برفانی تودہ (ایوالانچ) قرار دیا جا رہا ہے، کاؤنٹی شیرف کے مطابق برفانی تودے کی زد میں آئے 6 اسکائرز کو بچا لیا گیا ہے۔
حکام کا کہنا ہے کہ اسکائرز کو ردِعمل ظاہر کرنے کے لیے بہت کم وقت ملا، نیواڈا کاؤنٹی شیرف آفس نے کہا ’’کسی نے برفانی تودہ آتے دیکھا اور ’ایوالانچ!‘ چِلّایا لیکن وہ بہت تیزی سے اُن پر آ گرا۔‘‘
منگل کی صبح شمالی کیلیفورنیا کے پہاڑی سلسلے سیرا نیواڈا میں شدید سرمائی طوفان کے دوران تین روزہ مہم کے اختتام پر یہ حادثہ پیش آیا ہے۔ برفانی تودہ گرنے کے تقریباً چھ گھنٹے بعد چھ افراد کو زندہ نکال لیا گیا۔ حکام کے مطابق اس مہم میں 4 گائیڈ شامل تھے جن میں سے 3 کو ہلاک شدہ تصور کیا جا رہا ہے۔
حکام نے بتایا کہ گروپ میں 30 سے 55 سال کی عمر کے مرد و خواتین شامل تھے۔ نیواڈا کاؤنٹی شیرف نے کہا کہ تفتیش کار اس بات کا جائزہ لیں گے کہ اتوار کو موسم کی پیش گوئی کے باوجود اس مہم کو جاری رکھنے کا فیصلہ کیوں کیا گیا۔ اتوار کی صبح سیرا ایوالانچ سینٹر نے ایوالانچ وارننگ بھی جاری کی تھی، جس کا مطلب تھا کہ اگلے 24 سے 48 گھنٹوں میں بڑے برفانی تودے گرنے کا امکان ہے۔
کاؤنٹی شیرف کے مطابق متاثرین کی لاشیں ایک دوسرے کے نسبتاً قریب پائی گئیں، اور شدید موسمی حالات کے باعث ٹیمیں ابھی تک لاشوں کو پہاڑ سے نیچے منتقل نہیں کر سکیں۔ اتوار سے اب تک تین سے چھ فٹ تک برف پڑ چکی ہے۔ علاقے میں نقطہ انجماد سے کم درجہ حرارت اور تیز آندھی جیسی ہوائیں بھی چلتی رہیں۔
معلوم ہوا ہے کہ تمام اسکائرز کے پاس ایسے بیکنز موجود تھے جو ریسکیو ٹیموں کو سگنل بھیج سکتے ہیں، اور کم از کم ایک گائیڈ ٹیکسٹ پیغامات بھیجنے میں کامیاب رہا۔ تاہم یہ واضح نہیں کہ آیا وہ ایوالانچ بیگز پہنے ہوئے تھے یا نہیں۔ یہ پھولنے والے آلات ہوتے ہیں جو اسکائرز کو برف کی سطح کے قریب رکھنے میں مدد دیتے ہیں۔
اے آر وائی نیوز کی ڈیجیٹل ڈیسک کی جانب سے شائع کی گئی خبریں


