کیلی فورنیا کے بار میں فائرنگ کرنے والا امریکی فوج کا سابق افسر نکلا
The news is by your side.

Advertisement

کیلی فورنیا کے بار میں فائرنگ کرنے والا سابق امریکی فوج افسر نکلا

کیلیفورنیا: امریکی ریاست کیلی فورنیا کے بار میں فائرنگ کرنے والا امریکی فوج کا سابق افسر نکلا، ، حملے میں پولیس افسر سمیت بارہ افراد ہلاک ہوئے تھے۔

تفصیلات کے مطابق امریکی ریاست کیلیفورنیا میں بار میں فائرنگ کرکے بارہ افراد کو ہلاک کرنے والا سابق امریکی فوجی نکلا، حملہ آور کی شناخت اٹھائیس سالہ آئن ڈیوڈ لانگ کے نام سے ہوئی اور امریکی فوج میں میرین تھا۔

امریکی حکام کا کہنا ہے کہ اب تک یہ معلوم نہیں ہوسکا کہ اس نے حملہ کیوں کیا جبکہ ایف بی آئی نے کہا کہ وہ حملہ آور کے مذہبی رجحانات اور شدت پسندوں سے ممکنہ رابطوں سے متعلق تحقیقات کررہی ہے۔

گزشتہ روز ڈیوڈ لانگ نے کیلیفورنیا کے شہر تھاؤزنڈ اوکس کے ایک بار میں گھس کر فائرنگ کی تھی، جس سے ایک پولیس افسر سمیت بارہ افراد ہلاک اور متعدد زخمی ہوئے تھے۔ حملہ آور نے پولیس کے پہنچنے سے پہلے خود کو گولی مارلی تھی۔

عینی شاہدین کا کہنا تھا کہ مسلح شخص رین کوٹ پہن کر بار میں گھسا، دھوئیں کے بم پھینکے اور پھر فائر کھول دیا، اس وقت بار میں دو سو سے زائد افراد موجود تھے۔

یاد رہے 3 نومبر کو امریکی شہر تہلسی کے یوگا اسٹودیو میں مسلح شخص کی فائرنگ سے دو افراد ہلاک جبکہ 5 زخمی ہوگئے تھے جبکہ حملہ آور نے خود کو گولی مارکر خودکشی کرلی۔

اس واقعہ سے چند روز قبل ایک مسلح شخص نے شہر پٹس برگ میں واقع یہودی عبادت گاہ میں داخل ہوا کر اندر موجود تمام افراد کو یرغمال بنالیا تھا بعد ازاں حملہ آور نے فائرنگ کی جس کے نتیجے میں‌ 11 افراد ہلاک ہوگئے تھے۔

خیال رہے امریکا میں اس سال مجمع پر فائرنگ کے تین کے لگ بھگ واقعات ہوچکے ہیں اور اس قسم کے واقعات آئے روز پیش آتے ہیں اور ا س کا سبب وہاں کے معاشرے میں پھیلی بے یقینی اور اسلحے تک باآسانی رسائی ہے ، رواں سال جب اسکولوں میں اس نوعیت کے حملوں کی تعداد بڑھ گئی تو عوام نے بڑے پیمانے پر احتجاج کرتے ہوئے ملک میں گن کلچرل کو کنٹرول کرنے کا مطالبہ کیا تھا تاہم ٹرمپ حکومت نے یہ معاملہ سرد خانے کی نظر کردیا تھا۔

Comments

comments

یہ بھی پڑھیں