The news is by your side.

Advertisement

جانوروں کی پوستین (کھال) سے بنی چیزوں پر پابندی عائد

کیلیفورنیا جانوروں کی پوستین سے تیار کردہ اشیاء پر پابندی عائد کرنے والی پہلی امریکی ریاست بن گئی

واشنگٹن : قانون کی خلاف ورزی کرنے والوں پر 500 ڈالر کا جرمانہ عائد ہوگا اگر کوئی متعدد مرتبہ خلاف ورزی کا مرتکب ہوا تو اسے 1000 ڈالر جرمانہ ادا کرنا پڑے گا۔

تفصیلات کے مطابق کیلیفورنیا امریکا کی پہلی ریاست بن گئی ہے جہاں جانوروں کی پوستین یعنی بال والی کھال سے بنی چیزوں و اشیاء پر پابندی عائد کر دی گئی ہے،کیلیفورنیا کے شہری اب سنہ 2023 سے کھال سے بنے کپڑے، جوتے اور ہینڈ بیگز کی خرید و فروخت نہیں کر سکیں گے۔

مقامی خبر رساں ادارے کا کہنا تھا کہ جانوروں کے حقوق کی تنظیموں نے اس فیصلے کی حمایت کی ہے وہ گذشتہ کچھ عرصے سے اس پابندی کا مطالبہ کر رہے تھے۔

امریکی خبر رساں ادارے کے مطابق یہ قانون چمڑے اور گائے کی کھالوں پر لاگو نہیں ہوگا اور نہ ہی اس سے ہرن، بھیڑ اور بکرے کی کھالوں کی خرید و فروخت پر اثر پڑے گا،خبر میں کہا گیا ہے کہ یہ قانون ان مردہ جانوروں پر بھی لاگو نہیں ہوگا جنھیں مصنوعی طریقوں سے محفوظ رکھا گیا ہے۔

میڈیا رپورٹس کے مطابق قانون کی خلاف ورزی کرنے والوں پر 500 ڈالر کا جرمانہ عائد ہوگاجبکہ اگر کوئی شخص متعدد مرتبہ قانون کی خلاف ورزی کرتا ہے اس پر یہ جرمانہ 1000 ڈالر ہوگا۔

گورنر کیلیفورنیا گیون نیوسم نے ایک اور قانون کی بھی منظوری دی ہے جس کے مطابق اب سرکس شوز میں سوائے بلی، کتے اور گھوڑے کے سرکس کے اکثر جانور شامل نہیں کیے جا سکیں گے۔

یورپی ملک فن لینڈ میں جدید ٹیکنالوجی کی مدد سے جانوروں میں جینیاتی تبدیلیاں کی جاتی ہیں تاکہ اس سے ان کے جسم پر موجود پوستین(بال والی کھال) میں اضافہ ہو جوبڑھتی عمر کے ساتھ مزید جاری رہتا ہے۔

رپورٹس کے مطابق فن لینڈ میں اس بھیانک کام کا مقصد نرم فر (بال والی کھال)کی خرید و فروخت کو مزید منافع بخش صنعت بنانا ہےجو ملکی معیشت میں اہم کردار ادا کرتی ہے۔

Comments

comments

یہ بھی پڑھیں