منگل, مئی 19, 2026
اشتہار

کال سینٹرز میں کام کرنے والوں کے لیے حکومت کا بڑا اعلان

اشتہار

حیرت انگیز

اسلام آباد: وفاقی حکومت نے کال سینٹرز کو توانائی بحران کے دوران اوقاتِ کار کی پابندی سے مکمل استثنیٰ دے دیا۔

تفصیلات کے مطابق وفاقی وزیر برائے آئی ٹی و ٹیلی کام شیزہ خواجہ نے ملک بھر کے کال سینٹرز اور بزنس پراسیس آؤٹ سورسنگ کمپنیوں کے لیے بڑے ریلیف کا اعلان کر دیا ہے۔

ملک میں جاری توانائی کے بحران کے پیشِ نظر جہاں تجارتی مراکز اور مارکیٹوں پر جلد بندش کی پابندیاں عائد کی گئی ہیں، وہیں کال سینٹرز کو ان پابندیوں سے مکمل استثنیٰ دے دیا گیا ہے۔

وفاقی وزیر نے واضح کیا کہ کال سینٹرز کو توانائی بچت مہم کے تحت مقررہ وقت پر بند ہونے کی ضرورت نہیں ہے اور وہ اپنی آپریشنز چوبیس گھنٹے جاری رکھ سکتے ہیں۔

اس کے علاوہ، غیر ملکی وفود کی آمد کے پیشِ نظر اسلام آباد اور راولپنڈی میں اعلان کردہ مقامی تعطیلات کا اطلاق بھی کال سینٹرز پر نہیں ہوگا، تاکہ ملکی معیشت میں کلیدی کردار ادا کرنے والا آئی ٹی سیکٹر متاثر نہ ہو۔

Dollar and Other Currency Rates Today in Pakistan

شیزہ خواجہ نے اعتراف کیا کہ ضلعی انتظامیہ کی جانب سے استثنیٰ کی معلومات تمام اسٹیک ہولڈرز تک پہنچنے میں تاخیر ہوئی ہے، جس کی وجہ سے عملدرآمد میں کچھ چیلنجز درپیش ہیں۔ تاہم، حکومت ان مسائل کو حل کرنے کے لیے کوشاں ہے تاکہ کال سینٹرز کو کسی قسم کی رکاوٹ کا سامنا نہ کرنا پڑے۔

کال سینٹرز کو درپیش کسی بھی مسئلے، خصوصاً سیکیورٹی یا اوقاتِ کار سے متعلق شکایات کے حل کے لیے وزیر آئی ٹی نے پاکستان سافٹ ویئر ایکسپورٹ بورڈ سے رجوع کرنے کی ہدایت کی ہے۔ کال سینٹرز درج ذیل ذرائع سے مدد حاصل کر سکتے ہیں:

پی ایس ای بی پورٹل کے ذریعے 24 گھنٹے میں شکایات کا ازالہ یقینی بنایا جائے گا۔

حکومت کا کہنا ہے کہ بی پی او انڈسٹری پاکستان کی ڈیجیٹل معیشت کا اہم ستون ہے، اس لیے اسے ہر ممکن سہولت فراہم کرنا ترجیح ہے، پی ایس ای بی کے ممبرز اور غیر ممبرز دونوں اس سپورٹ ڈیسک سے فائدہ اٹھا سکتے ہیں۔

اہم ترین

ویب ڈیسک
ویب ڈیسک
اے آر وائی نیوز کی ڈیجیٹل ڈیسک کی جانب سے شائع کی گئی خبریں

مزید خبریں