The news is by your side.

Advertisement

بزرگ شہری پر تشدد، میئر سے استعفیٰ کا مطالبہ

واشنگٹن : امریکی عوام نے پولیس تشدد کے دوران زخمی ہونے والے بزرگ شہری کو ’اکسانے والاو فسادی‘ قرار دینے پر بافیلو شہر کے میئر سے استعفیٰ کا مطالبہ کردیا۔

تفصیلات کے مطابق امریکی ریاست مینیسوٹا میں دو ہفتوں قبل چار پولیس اہلکاروں کے بہیمانہ تشدد سے سیاہ فارم امریکی شہری کی ہلاک ہوگیا، جس کی موت پر  امریکا سمیت دنیا بھر میں احتجاج جاری ہیں۔

ریاست نیویارک کے شہر بافیلو  میں احتجاج کے دوران پولیس افسران نے 75 سالہ شخص کو دھکا دے کر زمین پر گرا دیا تھا جس کی ویڈیو وائرل ہونے پر عوام کی جانب سے واقعے میں ملوث پولیس اہلکاروں کی برطرفی کا مطالبہ کیا گیا تھا تاہم میئر بافیلو نے مذکورہ پولیس افسران کو برطرف کرنے کے بجائے متاثرہ شخص کو ’فسادی اور اکسانے والا‘ قرار دیا تھا۔

میئر بافیلو بائرن براوٗن نے یہ بیان ریڈیو کو دئیے گئے انٹرویو کے دوران دیا تھا جس میں انہوں نے کہا کہ ’مارٹن گوگینو(متاثرہ بزرگ) مظاہرین کو اکسانے کی کوشش کررہا تھا‘ جو پہلے سے اندھیرے میں تھے اور ہمیں ڈر تھا کہ مظاہرین مارٹن کے اکسانے پر پرتشدد کارروائیوں پر نہ اتر آئیں‘۔

بائرن براوٗن نے کہا کہ ’اگر مظاہرین بھڑک جاتے تو وہ توڑ پھوڑ کرتے، املاک کو آگ لگاتے اور دکانوں کو توڑ کر لوٹے اور میری اطلاعات کے مطابق وہ شخص لوگوں کو بھڑکانے میں کلیدی کردار ادا کررہا تھا‘۔

دوسری جانب واقعے کی ویڈیو وائرل ہونے پر عوام نے میئر بائرن براوٗن سے غیر ذمہ دارانہ اور غیر سنجیدہ بیان دینے پر استعفیٰ کا مطالبہ کردیا ہے۔

عوام کی جانب سے سوال اٹھائے جارہے ہیں کہ کیا شہر کے میئر کے پاس کے پولیس کے علاوہ کوئی اور ذرائع نہیں ہیں حقائق جاننے کے۔

واضح رہے کہ ایک روز قبل سوشل میڈیا پر پولیس تشدد کی ایک اور ویڈیو وائرل ہوئی تھی، ویڈیو میں دیکھا جاسکتا ہے کہ ایک بزرگ شخص پولیس اہلکاروں سے کچھ بات کرنے کی کوشش کرتا ہے کہ اچانک دو سیکیورٹی اہلکار اسے دھکا دیتے ہیں جس کے باعث زمین پر کر گر بیہوش ہوجاتا ہے اور اس کے سر سے خون بہنے لگتا ہے۔

جارج فلائیڈ کی ہلاکت کے بعد بھی امریکی پولیس کا رویہ نہ بدلا

سفید فام بزرگ شہری کے سر سے خون بہتا دیکھنے کے باوجود پولیس اہلکار متاثرہ شخص کو اٹھانے کی زحمت نہیں کرتے اور آگے بڑھتے رہتے ہیں۔

یہ واقعہ امریکی ریاست نیویارک کے شہر بافیلو میں پیش آیا، جس کی ویڈیو منظر عام پر آنے کے بعد انتظامیہ نے واقعے میں ملوث پولیس افسران کو چھٹیوں پر بھیج کر تنخواہ روک لی تھی۔

Comments

یہ بھی پڑھیں