The news is by your side.

Advertisement

سارا سال محنت کرنے والے طلبہ کی 40 فی صد ڈاؤن گریڈنگ، مستقل کو ناقابل تلافی نقصان

کراچی: آل سندھ پرائیویٹ اسکولز اینڈ کالجز ایسوسی ایشن نے کہا ہے کہ کیمبرج یونی ورسٹی نے طلبہ کی 40 فی صد ڈاؤن گریڈنگ کے ذریعے ان کے مستقبل کو ناقابل تلافی نقصان پہنچا دیا ہے۔

اے آر وائی نیوز کے مطابق سندھ کے نجی اسکولز اور کالجز کی تنظیم کے چیئرمین حیدر علی اور مرکزی رہنماؤں نے کہا ہے کہ کیمبرج یونی ورسٹی نے اپنے ہی فارمولے کی نفی کرتے ہوئے لاکھوں طلبہ کے مستقبل کو ناقابل تلافی نقصان پہنچایا۔

چیئرمین حیدر علی نے کہا کہ سارا سال محنت کرنے والے طلبہ کو 40 فی صد ڈاؤن گریڈنگ کے ذریعے A سے C اور D گریڈ دے دیا گیا، طلبہ کو انفرادی طور پر اپیل کے حق سے بھی محروم کر دیا گیا ہے، اور صرف اسکولز کو مجموعی طور پر اپیل کرنے کی اجازت کی بات ہو رہی ہے۔

انھوں نے کہا کہ O اور A لیول کے نتائج مایوس کن اور ناقابل قبول ہیں، اس طرح ڈاؤن گریڈنگ سے لاکھوں طلبہ کا مستقبل متاثر ہوگا، حکومت کیمبرج یونی ورسٹی کو نتائج پر نظرثانی کے لیے مجبور کرے۔

کیمبرج یونی ورسٹی کی جانب سے ڈاؤن گریڈنگ کے خلاف مختلف ممالک میں احتجاج کیا گیا

انھوں نے کہا دیگر ممالک میں بھی نتائج پر عدم اعتماد کا اظہار کیا جا رہا ہے، پاکستان میں لاکھوں طلبہ ان امتحانات میں شریک ہوتے ہیں، یہ سب اس لیے ہوا کہ پاکستان میں کیمبرج یونی ورسٹی سے متعلق لائزن اور ریگولیشنز موجود ہی نہیں ہیں۔

ایسوسی ایشن کے مطابق کیمبرج امتحانات کی مانیٹرنگ اور کوآرڈینیشن کے لیے کوئی ذمہ دار ادارہ موجود نہیں، لیکن لاکھوں طلبہ کو اسٹینڈرڈائزیشن کے نام اور کیمبرج یونی ورسٹی کے اپنے مفروضوں پر نہیں چھوڑا جا سکتا، سینٹرز سے مانگے گئے نتائج کو یک سر نظر انداز کیا گیا ہے۔

نجی اسکولز اور کالجز کی تنظیم کا کہنا تھا کہ حکومت کو فوری طور پر کیمبرج یونی ورسٹی سے نتائج پر نظرثانی کا مطالبہ کرنا چاہیے، اور مقامی یونی ورسیٹیز سے داخلے کی مطلوبہ شرائط میں بھی نرمی کروائی جائے، اور ایسا ذمہ دار ادارہ قائم کیا جائے جہاں ان طلبہ کی داد رسی اور آئندہ کیمبرج امتحانات کی ملکی سطح پر مانیٹرنگ اور کوارڈینیش ہو سکے۔

Comments

یہ بھی پڑھیں