The news is by your side.

Advertisement

اونٹ: قرآنی آیات، عربی بول چال اور عام زندگی میں!

قرآن کی ایک آیت کا ترجمہ ہے

“تو کیا وہ اونٹوں کو نہیں دیکھتے کہ کیسے بنائے گئے؟”
دیکھیے، قرآن نے اس جانور کا ذکر کس طور کیا ہے۔ علما کہتے ہیں کہ اللہ تعالیٰ نے اپنی ایک مخلوق کا ذکر کرتے ہوئے اس کی صنعت اور خلقت میں غور کرنے کی ترغیب دی ہے۔ یقیناً اس میں ہمارے لیے کوئی سبق، اشارہ، علامت اور حکمت کی بات پوشیدہ ہے کہ صحرا کے اس جانور کا تذکرہ اس طور کیا گیا ہے۔

اونٹ کی اہمیت اور افادیت سے عرب کے باشندوں سے زیادہ کون واقف ہوگا کہ اس حیوان کو سواری اور بوجھ ڈھونے کے لیے ہمیشہ سے پالتے آئے ہیں۔

عرب خطے میں‌ اونٹوں‌ سے کام لینے کے علاوہ اس کا ذکر عام گفتگو اور بول چال میں بھی ہوتا ہے۔ عربی زبان میں اونٹوں کے لیے کئی لفظ رائج رہے ہیں اور اس جانور کو محاورات، کہاوتوں، امثال اور کہانیوں میں بھی اس کی مختلف عادات، صفات اور خصوصیات کی وجہ سے موضوع بنایا گیا ہے۔

عربی میں نر، مادہ اور لمبے یا نسبتاً چھوٹے قد والے اونٹ کے لیے الگ الگ الفاظ برتے جاتے ہیں۔ اسی طرح کوہان، بالوں اور ان کی رنگت کے لحاظ سے بھی عربی میں اونٹ کے مختلف نام ہیں۔

قرآن میں متعدد مقامات پر اونٹ کا ذکر آیا ہے۔ علما بتاتے ہیں کہ قرآن کریم میں اونٹ کا ذکر 13 مختلف ناموں سے کیا گیا ہے۔ اس جانور کے لیے ناقہ کا لفظ سب سے زیادہ استعمال ہوا ہے جو بہ طورِ خاص حضرت صالح علیہ السلام کی اونٹنی کے لیے بھی استعمال ہوا ہے۔ یہ اونٹنی ایک معجزہ تھی جو قومِ ثمود کے مطالبے پر اللہ تعالیٰ کے حکم سے پہاڑ سے ظاہر ہوئی۔ نبی کی جانب سے اللہ کی وحدانیت اور توبہ کی ہدایت کا پیغام سن کر سرکش قوم نے شک ظاہر کیا اور معجزے کی فرمائش کی۔

حضرت صالح علیہ السلام نے اللہ تعالیٰ سے دُعا کی جو قبول ہوئی اور ایک چٹان میں سے طویل القامت، خُوب صورت اونٹنی برآمد ہوئی، جس میں وہ سب خوبیاں تھیں، جن کی قومِ ثمود نے فرمائش کی تھی۔ وہ اسے دیکھ کر لاجواب ہو گئے مگر ان میں چند کے علاوہ باقی لوگ خیر کی طرف نہ پلٹے اور سرکشی پر آمادہ رہے۔ اس قوم نے اللہ کے نبی کی اس اونٹنی کو مار دیا اور عذاب میں گرفتار ہوئے۔

fb-share-icon0
Tweet 20

Comments

comments

یہ بھی پڑھیں