The news is by your side.

فوٹو گرافی: کئی تجربات اور مراحل سے گزرنے والی نایاب ایجاد

سنیماٹو گرافی دراصل فوٹو گرافی کی توسیعی شکل ہے۔ لہٰذا سنیما کے ارتقائی سفر کو سمجھنے کے لیے فوٹو گرافی کی ایجاد اور اس کے ارتقائی مراحل کو سمجھنا ضروری ہے۔

فوٹو گرافی کی حیرت انگیز خوبیوں کو دیکھتے ہوئے Discoveries and Inventions of Ninteenth Cetury کے مصنّف رابرٹ رولج (Robert Routledge) نے اسے انیسویں صدی کا سب سے خوب صورت، مقبول اور لائقِ تحسین ایجاد قرار دیا ہے۔

“No other of our ninetieth century inventions is at once so beautiful, so precious, so popular, so appreciated as photography”

ترجمہ: ’’انیسویں صدی کی جملہ انکشافات میں محض فوٹو گرافی ہی بیک وقت سب سے زیادہ خوب صورت، بیش قیمت، مقبول اور قابلِ تعریف ایجاد ہے۔‘‘

فوٹو گرافی کی تاریخ کا جائزہ لینے سے پتہ چلتا ہے کہ اس کی ایجاد میں بھی کئی صدیوں اور کئی لوگوں کی کوششوں کا عمل دخل رہا ہے۔ متعدد تجربات اور مراحل سے گزر کر یہ نایاب ایجاد ہم تک پہونچی ہے۔ بعض مورّخین کا خیال ہے کہ فوٹو گرافی کی ایجاد میں اسلامی عہد کے مشہور سائنس داں ابو علی حسن ابن الہیثم نے پہل کی تھی۔ مغربی دنیا میں الہیزن (Alhazen) کے نام سے معروف ابن الہیثم نے بصریات (Optics) کا بڑی باریکی سے مطالعہ کیا ہے اور اس بابت متعدد نظریات بھی پیش کیے ہیں جو آج تک بصریات سے متعلق کئی سائنسی نظریوں میں بنیاد مانے جاتے ہیں۔ اس ضمن میں انہوں نے’’کتاب المناظر‘‘ نام سے ایک اہم تصنیف بھی کی ہے۔ اس کتاب کا انگریزی ترجمہ ”Book of Optics” کے نام سے موجود ہے جو سترہویں صدی تک مغرب کی یونیورسٹیوں میں شامل نصاب رہی اور کئی سائنسی تجربات میں اس سے مدد بھی لی گئی۔

ابن الہیثم نے بصریات سے متعلق اپنے نظریات پر تجربہ کرتے ہوئے پہلے باریک سوراخ والا کیمرہ (Pinhole Camera) تیار کیا اور بعد میں اس کی خامیوں کو مزید دور کرتے ہوئے تاریک کیمرہ (Camera Obscura) بنایا جسے عربی میں بیت المظلم کہا جاتا ہے۔ یہ لکڑی یا دھات سے باکس نما بنایا جاتا ہے جس کا اندوری حصہ مکمل تاریک اور باہری حصہ پر ایک چھوٹا سوراخ ہوتا ہے جو بیرونی مناظر کو سوراخ دار خانے میں موجود سیاہ پردے پر منعکس کرتا ہے۔ ابن الہیثم کی اس ایجاد کو فوٹو گرافی یا سینماٹو گرافی کا پہلا نمونہ تصور کیا جاتا ہے۔

بعض لوگ اس بات کے بھی قائل ہیں کہ کسی تاریک خانے میں ایک باریک سوراخ یا مدخل کے ذریعہ بیرونی مناظر کو اندورنی سیاہ پردے یا حصے پر منعکس کرنے کا تصور ارسطو کے یہاں بھی موجود تھا جیسا کہ اقلیدس نے تقریباً 300 سال قبل از مسیح میں اپنی کتاب ”Euclid’s Optics” میں تذکرہ کیا ہے کہ ارسطو نے سورج گرہن کے وقت اس کی ہلال (Crescent) جیسی شباہت کو درخت کی پتیوں کے ذریعہ زمین پر منعکس ہوتے ہوئے مشاہدہ کیا تھا۔ اس قسم کے تصورات خود اقلیدس اور ارسطو سے قبل پانچویں صدی قبل از مسیح میں چین کے قدیم فلسفی موزی (Mozi) کے یہاں بھی موجود تھے۔ اس کے علاوہ چوتھی صدی عیسوی میں اسکندریہ ( مصر) کے مشہور فلسفی تھیون (Theon) اور چھٹی صدی عیسوی میں مشہور بازنطینی فلسفی انتھیمیس (Anthemius) کے یہاں بھی اس قسم کے تصورات ملتے ہیں۔

نویں صدی عیسوی میں عرب کے مشہور فلسفی ابویوسف یعقوب ابن اسحق الصباح الکندی (Alkindus) نے بھی اس نظریے پر اپنے خیالات کا اظہار کیا ہے۔ مگر ان تمام لوگوں میں سے کسی نے بھی اس نظریے کو عملی جامہ نہیں پہنایا۔ ابن الہییثم وہ پہلا شخص ہے جس نے اس نظریے کو بہت ہی واضح انداز میں پیش کیا اور ساتھ ہی اس کا عملی تجربہ بھی کیا۔ یہی وجہ ہے کہ زیادہ تر لوگ Pinhole Camera یا Camera Obscura کو ابن الہیثم (Alhazen) کی طرف منسوب کرتے ہیں۔

تاریک کیمرہ (Camera Obscura) سے محض عارضی تصویر دیکھی جا سکتی تھی۔ اس سے مستقل تصویر بنانا اب تک دریافت نہیں ہو پایا تھا۔ دسویں صدی سے لے کر پندرہویں صدی تک عام مشاہدہ یا سورج گرہن کو براہِ راست دیکھنے کے نقصان سے بچنے کے لیے اس کیمرے کو استعمال میں لایا جاتا رہا۔ سولہویں صدی میں اٹلی کے سائنسداں جیام بٹیسٹاڈیلاپورٹا (Giambattista della Porta) نے اس کیمرہ پر مزید تحقیق کی اور مشورہ دیا کہ فن کار (Artist) اس کیمرہ کے عکس کو کاغذ پر ابھار کر نقاشی (Painting) میں مدد لے سکتے ہیں۔ چنانچہ سولہویں صدی سے لے کر اٹھارویں صدی تک تاریک کیمرہ نقاشوں کے لیے ایک معاون آلے کی طرح کام کرتا رہا اور آخر کار وہ دن بھی آیا جب ہنرمندوں نے اس آلہ سے مستقل تصویر نکالنے کا ہنر ڈھونڈ نکالا۔

اٹھارہویں صدی میں بہت سے سائنس داں اس کیمرے سے پردے پر منعکس ہونے والی تصویروں کو دائمی شکل دینے میں کوشاں تھے۔ آخر کار ایک دوسرے کی دریافت اور تجربے سے فائدہ اٹھاتے ہوئے انہوں نے اس پہیلی کو سلجھانے میں کام یابی حاصل کی۔

مذکورہ تفصیلات سے معلوم ہوتا ہے کہ فوٹو گرافی محض ایک شخص کا کارنامہ نہیں بلکہ جوزف، دگیر اور تالبوت جیسی کئی اہم شخصیات کی مسلسل کوششوں اور تجربوں کا نتیجہ تھی۔ فوٹو گرافی کے باقاعدہ آغاز کے بعد لوگوں نے متحرک تصویروں کو کیمرے میں قید کرنے کے طریقوں پر غور کرنا شروع کیا۔ اور اس کوشش کے نتیجے میں سینماٹو گرافی (Cinematography) ایجاد ہوا۔

(بھارتی ریسرچ اسکالر اکرم شمس کے مضمون سے اقتباسات)

Comments

یہ بھی پڑھیں