The news is by your side.

Advertisement

نئی دہلی میں درختوں کی کٹائی کے خلاف مہم کا آغاز

نئی دہلی : بھارت میں سماجی کارکنوں نے درختوں کی کٹائی کے خلاف مہم کا آغاز کرتے ہوئے درختوں کے گرد بینرز اور پوسٹرز آویزاں کردیئے ہیں جن پر ’مجھے بچاؤ‘ کے الفاظ تحریر ہیں۔

تفصیلات کے مطابق بھارتی دارالحکومت نئی دہلی میں درختوں کے تحفظ کے سلسلے میں ’درختوں کو بچاؤ‘ نامی مہم کا آغاز کردیا گیا۔ تحفظِ ماحول کے لیے کام کرنے والے سماجی کارکنوں کا کہنا ہے کہ دہلی میں تعمیراتی مقاصد کے لیے درختوں کی بے دریغ کٹائی کی جارہی ہے۔

بھارتی میڈیا ذرائع کا کہنا تھا کہ دہلی میں ماحولیات کو محفوظ بنانے کے سلسلے میں خدمات انجام دینے والے سماجی کارکنوں نے شہر میں درختوں کی کٹائی کے خلاف مہم کا آغاز کرتے ہوئے کہا ہے کہ حکومت سرکاری فلٹیس تعمیر کرنے کے لیے 16 ہزار 5 سو درختوں کو کاٹ رہی ہے۔

میڈیا کا کہنا تھا کہ سماجی امور انجام دینے والے کارکنوں نے درختوں کی حفاظت کے لیے درختوں کے گرد بینرز اور پوسٹر آویزاں کردیئے ہیں جن پر ’مجھے بچاؤ‘ کے الفاظ تحریر ہیں۔

خیال رہے کہ دہلی کو دنیا کے آلودہ ترین شہروں میں شمار کیا جاتا ہے، تاہم بھارت میں ہونے والی حالیہ ماحولیاتی تبدیلیوں کے باعث دہلی کی موسمی صورتحال بھی خراب ہوتی جارہی ہے، جس کی وجہ سے شہریوں کی زندگی اجیرن ہوگئی ہے۔

واضح رہے کہ بھارت کے نقش قدم پر چلتے ہوئے پاکستانی حکام بھی ترقیاتی منصوبوں اور رہائشی آبادیوں کی تعمیر کے سلسلے میں درختوں اور جنگلوں کی کٹائی کثرت سے جاری رکھے ہوئے ہیں۔

پاکستان میں درختوں کی کٹائی کے خلاف ملک کے کئی بڑے شہروں میں درختوں کی بے رحمانہ کٹائی کے خلاف مظاہرے بھی ہوچکے ہیں۔

بھارتی میڈیا ذرائع کے مطابق دہلی کے رہائیشوں کی ایک بڑی مشکل شہر کی فضائی آلودگی ہے، جس نے عوام کو شدید بے چینی میں مبتلا کیا ہوا ہے۔

تحقیقی رپورٹ میں بتایا گیا ہے کہ نئی دہلی کی فضائی آلودگی شہر میں زہریلی ہوا کے پیدا ہونے کا سبب بنتی ہے، جس سے ہر سال 10 ہزار سے 30 ہزار کے قریب افراد لقمہ اجل بنتے ہیں، جبکہ 44 لاکھ بچوں میں تقریباً نصف بچوں کے پھیپھڑے زہریلی ہوا کے باعث ہمیشہ کے لیے خراب ہوچکے ہیں۔

ماہرین کا کہنا تھا کہ کسی شہر میں جنگلات کی موجودگی اس شہر کی خوشحالی، خوبصورتی اور باشندوں کی صحت و تندرستی میں اضافہ کرسکتی ہے۔

اقوام متحدہ کا کہنا ہے کہ بڑے اور پرہجوم شہروں میں درختوں کا ہونا ضروری ہے تاکہ وہاں موسمیاتی تغیرات (کلائمٹ چینج) کی وجہ سے ہونے والی گرمی اور ماحول کی آلودگی میں کمی آئے۔


خبر کے بارے میں اپنی رائے کا اظہار کمنٹس میں کریں۔ مذکورہ معلومات کو زیادہ سے زیادہ لوگوں تک پہنچانے کے لیے سوشل میڈیا پر شیئر کریں۔

Comments

comments

یہ بھی پڑھیں