The news is by your side.

Advertisement

ڈسکہ ضمنی الیکشن کا فیصلہ، سپریم کورٹ کے جج کیخلاف سوشل میڈیا پر مہم

اسلام آباد: این اے 75 ڈسکہ ضمنی الیکشن کے فیصلے کے بعد سپریم کورٹ کے جج کے خلاف ٹویٹر پر مہم چلائی گئی۔

اے آر وائی نیوز کی رپورٹ کے مطابق سوشل میڈیا پر چلنے والی مہم میں بینچ میں شامل جج کے خلاف نازیبا زبان استعمال کی گئی، جن ٹویٹر اکاؤنٹ سے مہم چلائی جارہی ہے بیشتر کو مریم نواز فالو کرتی ہیں۔

واضح رہے کہ سپریم کورٹ نے این اے75ڈسکہ میں 10اپریل کو ہونیوالی پولنگ روک دی اور حکم امتناع جاری کردیا، الیکشن کمیشن نے 10اپریل کو پورے حلقے میں دوبارہ پولنگ کا حکم دیا تھا۔

ججز کے خلاف ذاتی سطح پر مہم چلانا افسوسناک ہے، شہباز گل

معاون خصوصی برائے سیاسی روابط شہباز گل کا کہنا تھا کہ عدالتوں، ججز کے خلاف ذاتی سطح پر مہم چلانا افسوسناک ہے، عدلیہ اپنی ذمہ داری پوری کررہی ہے۔

شہباز گل نے کہا کہ کسی فیصلے پر اعتراض ہے تو تنقید کا حق ضرور ہے، مریم نواز تشدد اور عدم برداشت کی سیاست کررہی ہے، کل ہائیکورٹ نے ضمانت دی اچھی بات ہے ملنا چاہیے، ڈسکہ الیکشن پر سپریم کورٹ کا فیصلہ آیا تو اس کے خلاف ٹرینڈ چلا رہے ہیں۔

انہوں نے کہا کہ کوئی فیصلہ ان کے خلاف ہو تو مہم چلاتے ہیں، یہ طریقہ نہیں چل سکتا، آپ کو عدالتوں کا احترام کرنا پڑے گا، وزیر داخلہ اور وزیر قانون سے درخواست کروں گا مہم پر فوری ایکشن لیا جائے۔

پی ٹی اے اور ایف آئی اے کی خاموشی سمجھ سے بالاتر ہے، اظہر صدیق ایڈووکیٹ

اظہر صدیق ایڈووکیٹ کا کہنا تھا کہ پی ٹی اے اور ایف آئی اے کی خاموشی سمجھ سے بالاتر ہے، پاناما کیس کا فیصلہ آیا تھا اس وقت بھی سوشل میڈیا پر مہم چلائی گئی تھی۔

انہوں نے کہا کہ پہلے ن لیگ نے 23 حلقوں کی درخواست دی تھی، ن لیگ کے وکیل سپریم کورٹ کو مطمئن نہیں کرسکے تھے۔

اظہر صدیق ایڈووکیٹ نے کہا کہ اس مہم پر الیکٹرانک کرائم کے تحت مقدمہ اور 10 سال کی سزا ہوسکتی ہے، ایف آئی اے کو آئی پی پیز ٹریک کرکے کارروائی کرنی چاہیے۔

انہوں نے کہا کہ واٹس ایپ کے گروپس کے اندر بھی ایسی چیزیں شیئر ہوتی ہیں، جان بوجھ کر ایسی مہم چلائی جارہی ہے جسے روکنا ضروری ہے۔

Comments

یہ بھی پڑھیں