The news is by your side.

Advertisement

کیا ملیریا کی دوا کلوروکوئن کرونا کا مقابلہ کر سکتی ہے؟

نیویارک: ملیریا کی قدیم دوا کلوروکوئن کو نئے وائرس Covid-19 کے علاج کے لیے استعمال کیا جانے لگا ہے، تاہم اس دوا کی باقاعدہ طبی آزمایش نہیں کی گئی ہے۔

تفصیلات کے مطابق امریکا کے ایک بلاک چین انویسٹر نے اپنے ٹویٹر اکاؤنٹ پر دعویٰ کیا ہے کہ ملیریا کی 85 سالہ پرانی دوا کلوروکوئن نئے کرونا وائرس سے ہونے والی بیماری کے لیے اہم علاج ثابت ہو رہی ہے، کلوروکوئن کے استعمال سے کرونا وائرس سے بچاؤ بھی ہو سکتا ہے۔

خیال رہے کہ چین میں کرونا وائرس کے علاج کے لیے کئی طریقوں پر تجربات جاری ہیں، ان میں سے ایک اینٹی وائرل دوا remdesivir بھی شامل ہے، جو ایبولا وائرس کے لیے استعمال کی گئی تھی، اس کی امریکا میں بھرپور آزمایش جاری ہے، تاہم ابھی تک فوڈ اینڈ ڈرگ ایڈمنسٹریشن نے اس کے بارے میں بھی کوئی تصدیق نہیں کی ہے۔

کلوروکوئن بہت پرانی دوا ہے جسے جنگ عظیم دوم کے وقت استعمال کیا گیا تھا، یہ سنکونا درخت کی چھال سے تیار کی جاتی ہے، اور بہت سستی دوا ہے۔

ملیریا کی ایک پرانی دوا کرونا وائرس کے خلاف مددگار ہے، امریکی صدر

انجینئرنگ اور ٹیکنالوجی کی دنیا سے وابستہ سرمایہ کار جیمز ٹوڈارو نے کہا کہ انھوں نے اس سلسلے میں سٹینفورڈ میڈیکل اسکول کی مشاورت کے ساتھ کلوروکوئن کے کرونا کے علاج کے لیے استعمال پر ایک مقالہ بھی لکھا، تاہم میڈیکل اسکول کی جانب سے اس بات کی تردید کر دی گئی ہے، کہ ان کی طرف سے مقالے میں کسی قسم کی شراکت نہیں کی گئی۔

دوسری طرف سی ڈی سی اور ورلڈ ہیلتھ آرگنائزیشن (ڈبلیو ایچ او) کی جانب سے بھی کوئی تصدیق نہیں کی گئی ہے کہ کلوروکوئن دوا کرونا وائرس میں مؤثر ہے، گزشتہ ماہ عالمی ادارہ صحت کی جانب سے ایک پریس کانفرنس میں کہا گیا تھا کہ کلوروکوئن کے بارے میں انھیں ایسا کوئی ثبوت نہیں ملا ہے جو کرونا کے علاج سے متعلق ہو۔

fb-share-icon0
Tweet 20

Comments

comments

یہ بھی پڑھیں