The news is by your side.

Advertisement

دودھ کا متبادل تیار

کیلی فورنیا: مصنوعی خوراک کے حوالے سے کام کرنے والی امریکی کمپنی نے گوشت کے بعد اب دودھ کی تیاری پر کام شروع کردیا، جو ذائقے اور رنگت میں اصلی جیسا ہی ہوگا۔

کرونا وائرس کی اس وبا کے دوران ایک طرف تو کئی ریسٹورنٹس نے اپنے دروازے ہمیشہ کے لیے بند کردیئے، لیکن دوسری طرف گوشت کی متبادل مصنوعات بنانے والی کمپنی امپوسیبل فوڈز دن بہ دن ترقی کررہی ہے، ان کے مصنوعی برگر پیٹیس اور سوسیجز امریکہ کے کم وبیش دس ہزار دکانوں پر دستیاب ہیں۔

ایمپوسیبل فوڈز کیا ہیں؟

ایمپوسیبل فوڈز دراصل وہ خوارک ہے جو کو پودوں سے حاصل ہونے والے پروٹین کی مدد سے تیار کیا جاتا ہے، ماہرین کے مطابق اس فوڈ کی لذت اور بناؤٹ اصلی معلوم ہوتی ہے، اس لیے کوئی اُن کو آسانی سے پکڑ نہیں سکتا۔

دودھ کا نعم البدل تیار  کرنے کا اعلان 

کمپنی نے مصنوعی برگر پیٹیس اور سوسیجز بنانے کے بعد اب دودھ کے نعم البدل پر بھی کام شروع کردیا ہے، ایک پریس کانفرنس کے دوران امپوسیبل فوڈز نے پودوں سے بنے دودھ کے متبادل کا پروٹوٹائپ بھی پیش کیا۔کمپنی کا کہنا ہے کہ اس کا بنیادی جز سویا ہے اور یہ نہ صرف اصلی دودھ کی طرح نظر آتا ہے بلکہ اسے اصلی دودھ کی طرح استعمال بھی کیا جاسکتا ہے، تاہم انہوں نے اب تک یہ نہيں بتایا کہ یہ دودھ مارکیٹ میں کب متعارف کیا جائے گا۔

امپوسیبل فوڈز  کمپنی کب قائم کی گئی

امپوسیبل فوڈز کو دوہزار گیارہ میں اسٹینفورڈ کے بائیوکیمسٹری کے پروفیسر پیٹ براؤن نے قائم کیا تھا اور اس کے دفاتر کیلیفورنیا کے شہر ریڈوڈ سٹی میں واقع ہيں، اس کمپنی نے ماضی میں گائے کے گوشت کا متبادل تیار کیا تھا، جو نہایت کامیاب ثابت ہوا، اس مصنوعی گوشت کو بنانے کے لیے کمپنی نے خمیر کی چند اقسام کی جینیاتی انجنیئرنگ کی مدد سے ہیم نامی مرکب حاصل کیا تھا جس کے باعث مصنوعی گوشت کو گائے کے گوشت کا رنگ اور مزہ دینا ممکن ہوا۔

کمپنی نے اب تک کیا کامیابی حاصل کی؟

امپوسیبل فوڈز کی جانب سے بنایا گیا مصنوعی برگر اس کی واضح مثال ہے، جسے پودے سے حاصل کردہ پروٹین سے تیار کیا جاتا ہے، جس نے مغربی دنیا میں تہلکہ مچادیا ہے، ان کے دیکھا دیکھی مک ڈونلڈز نے بھی پی ایل ٹی (پلانٹ، لیٹس، ٹماٹو) برگر متعارف کرایا ہے۔

اس کے علاوہ کمپنی نے دس تحقیق دانوں کی اسامیوں کا بھی اعلان کیا ہے، ان عہدوں پر ملک بھر کے نمایاں ترین سائنسدانوں کو بھرتی کیا جائے گا جنہيں راغب کرنے کے لیے انہيں اپنے ریسرچ پروگرامز پر کام کرنے کی اجازت دی جائے گی۔

یہ بھی پڑھیں:  کورونا کے مریضوں میں مختلف علامات : سائنسدانوں کا بڑا انکشاف

اقوام متحدہ کے ادارہ برائے خوراک و زراعت کے مطابق مویشی دنیا بھر کے گرین ہاؤس گیسز کے 14.5 فیصد حصے کے ذمہ دار ہیں۔ براؤن امپوسیبل فوڈز کے ذریعے اس شعبے کے ماحولیاتی اثرات کم کرنا چاہتے ہيں۔

یہ تحریر امریکی صحافی جیمز ٹیمپل نے لکھی، جسے ادارے نے اردو ترجمے اور دلکش تصاویر کے ساتھ اپنی ویب سائٹ پر شائع کیا۔

Comments

یہ بھی پڑھیں