روہنگیا مسلمانوں کی نسل کشی، کینیڈا نے سوچی کی شہریت منسوخ کردی Aung San Suu Kyi
The news is by your side.

Advertisement

روہنگیا مسلمانوں کی نسل کشی، کینیڈا کا سوچی کی اعزازی شہریت منسوخ کرنے کا فیصلہ

اوٹاوا : کینیڈا کے اراکین پارلیمنٹ نے روہنگیا مسلمانوں کی نسل کشی روکنے میں ناکامی پر میانمار کی صدر آنگ سان سوچی کینیڈین شہریت ختم کرنے کا فیصلہ کرلیا۔

تفصیلات کے مطابق براعظم امریکا میں واقع ملک کینیڈا کے اراکین پارلیمنٹ نے حکومت کی جانب سے میانمار کی سربراہ آنگ سان سوچی کی اعزازی شہریت منسوخ کرنے کے لیے پیش کردہ قرار داد کے حق میں ووٹ دے دیا۔

غیر ملکی خبر رساں ادارے کا کہنا تھا کہ کینیڈین حکومت اور اراکین پارلیمنٹ کی جانب سے میانمار (برما) کی سربراہ کے خلاف یہ اقدام اس لیے اٹھایا گیا کیوں کہ آنگ سان سوچی برما میں روہنگیا مسلمانوں کی نسل کشی روکنے میں ناکام رہی۔

برما کی صدر آنگ سان سوچی میانمات میں جمہوریت ہی بحالی کے لیے کوششیں کرکے سنہ 1991 میں نوبل انعام اپنے نام کرچکی ہیں۔

یاد رہے کہ اقوام متحدہ نے روہنگیا مسلمانوں کے خلاف ہونے والی فوجی کارروائی پر 27 اگست کو جاری تحقیقاتی رپورٹ میں کہا گیا ہے کہ برما کی فوج نے مسلم اکثریتی والے علاقے رخائن میں روہنگیا مسلمانوں پر انسانیت سوز مظالم ڈھائے ہیں جو عالمی قوانین کی نظر میں جرم ہیں۔

اقوام متحدہ کے ادارے ’فیکٹ فائنڈنگ مشن برائے میانمار‘ نے رپورٹ میں بتایا ہے کہ ریاست رخائن میں میانمار کی فوج نے سیکڑوں مسلمانوں کا قتل عام کیا اور علاقہ چھوڑنے پر مجبور کیا، مذکورہ اقدامات جنگی جرائم اور نسل کشی کے زمرے میں آتے ہیں۔

اقوام متحدہ کی میانمار میں روہنگیا مسلمانوں کی نسل کشی سے متعلق جاری تحقیقاتی رپورٹ میں میانمار کے آرمی چیف کے خلاف تحقیقات کرنے کا کہا گیا تھا۔

خیال رہے کہ اقوام متحدہ کی جاری کردہ رپورٹ میں بتایا گیا ہے کہ برمی حکومت اور فوج کی جانب سے مسلم اکثریتی علاقے رخائن میں شدت پسندوں کے خلاف آپریشن کے نام پر روہنگیا مسلمانوں کی نسل کشی کی گئی، جس کے باعث گزشتہ 12 ماہ کے دوران میانمار میں تقریباً 7 لاکھ روہنگیا مسلمان ہجرت کرنے پر مجبور ہوئے ہیں۔

Comments

comments

یہ بھی پڑھیں