اونٹاریو : کینیڈا نے ورک ویزا پالیسی تبدیل کرتے ہوئے موجودہ اوپن ورک پرمٹ ختم کرتے ہوئے نیا ورک لائسنسنگ نظام نافذ کرنے کا اعلان کردیا۔
تفصیلات کے مطابق کینیڈا نے اعلان کیا ہے کہ جنوری 2026 سے موجودہ اوپن ورک پرمٹ ختم کر کے ایک نئے ایمپلائر لنکڈ ورک لائسنس فریم ورک کو نافذ کیا جائے گا۔
یہ اصلاحات مرحلہ وار 2028 تک پوری ملک میں لاگو ہوں گی اور غیر ملکی مزدوروں، بین الاقوامی گریجویٹس اور عارضی رہائشیوں کے لیے ملازمت کی رسائی، نوکری کی موبلیٹی اور قانونی اجازت کو نئے اصولوں کے تحت محدود کریں گی۔
موجودہ نظام کے تحت اوپن ورک پرمٹ ہولڈرز کسی بھی ایمپلائر کے تحت کام کر سکتے تھے، جس کی وجہ سے بین الاقوامی طلبہ، پوسٹ گریجویشن ورک پرمٹ ہولڈرز، غیر ملکی مزدوروں کے شریک حیات اور دیگر عارضی رہائشی اس نظام میں دلچسپی رکھتے تھے۔
تاہم کینیڈین حکام کا کہنا ہے کہ اس ماڈل نے لیبر مارکیٹ پر مؤثر نگرانی مشکل بنا دی تھی اور یہ جاننا مشکل ہو گیا تھا کہ غیر ملکی کارکن واقعی کمزور شعبوں میں ملازمت کر رہے ہیں یا نہیں۔
سال 2026 سے نئے ورک لائسنسنگ نظام کے تحت ملازمت کی اجازت مخصوص ایمپلائر، پیشہ اور تنخواہ کے دائرے میں ہوگی ، یہ لائسنس وقت کے پابند اور صنعت سے متعلق ہوں گے، اور صرف تصدیق شدہ لیبر مارکیٹ کی ضروریات کے مطابق منظور ہوں گے۔
اس پالیسی کے تحت کارکنوں کی ملازمت کی نقل و حرکت محدود ہو جائے گی، اور کسی بھی ایمپلائر کی تبدیلی کے لیے نیا لائسنس لینا لازمی ہوگا۔
اس اقدام کے ذریعے کینیڈا لیبر مارکیٹ میں بہتر نگرانی، مزدوروں کے استحصال کی روک تھام اور شعبوں میں مہارت کی کمی کی درست نشاندہی کر سکے گا۔
بین الاقوامی گریجویٹس اس تبدیلی سے سب سے زیادہ متاثر ہوں گے کیونکہ موجودہ نظام میں وہ اپنے تعلیم مکمل کرنے کے بعد آزادانہ طور پر کسی بھی کمپنی میں کام کر سکتے تھے، لیکن نئی پالیسی کے تحت یہ راستہ پوسٹ گریجویشن ورک لائسنس میں تبدیل ہو جائے گا، جس کی اہلیت صرف منظور شدہ یا ہائی ڈیمانڈ شعبے میں نوکری حاصل کرنے پر منحصر ہوگی۔
حکام کا کہنا ہے کہ یہ اقدام گریجویٹس کو کینیڈا کی طویل مدتی اقتصادی ترجیحات کے مطابق ملازمتیں دلانے کے لیے کیا جا رہا ہے، اگرچہ اس سے ملازمت کی آزادی اور لچک محدود ہو جائے گی۔


