site
stats
عالمی خبریں

کینیڈین مسجد حملہ: ملزم سفید فام قوم کی برتری چاہتا تھا، دوست کا انکشاف

کیوبک: کینیڈا میں مسجد پر حملے کے ملزم الیگزینڈر نے حملے سے ایک رات قبل اپنے دوست سے کہا تھا کہ اگر امیگریشن قوانین میں تبدیلی نہ آئی تو سفید فام قوم پسماندہ ہوجائے گی، میں چاہتا ہوں کہ امیگریشن قوانین کے تحت کینیڈا اور کیوبک میں صرف سفید فام لوگوں کے داخلے کی اجازت ہو۔

اس بات کا انکشاف ملزم کے یونیورسٹی کے دوست نے نشریاتی ادارے سی بی سی کو خصوصی انٹرویو دیتے ہوئے کیا۔

سال 2014ء میں لاویل یونیورسٹی میں ملزم الیگزینڈر کے ہم جماعت مارٹن رابن نے بتایا کہ ملزم بتدریج دائیں بازو کے خیالات کا حامی بنتا چلا گیا یہ بات بہت سے لوگ بھی کہتے تھے۔

ملزم کے سابق ہم جماعت اور دوست نے بتایا کہ مسجد حملے سے چند ماہ قبل میری اس سے ملاقات ختم ہوگئی تاہم فیس بک پر اس سے اکثر بات چیت ہوتی رہتی تھی حتیٰ کہ حملے سے ایک رات قبل ہفتے کو بھی فیس بک پر اس سے بات ہوئی۔

فیس بک پر گفتگو کے دوران ہفتے کو رابن نے ملزم سے پوچھا کہ نئے امریکی صدر ٹرمپ کی جانب سے 7 مسلم ممالک کے شہریوں کے داخلے پر 90 روز کی پابندی سے متعلق اس کی کیا رائے ہے تو ملزم نے بتایا کہ وہ چاہتا ہے کہ کینیڈا اور کیوبک میں صرف سفید فام لوگوں کا داخلہ ہو ۔

دوست کے مطابق ملزم کا موقف تھا کہ طویل عرصے سے باہر سے آنے والے غیر سفید فام اور غیر یورپین لوگ سفید فام کو پسماندہ کرنے کی کوششوں میں لگے ہوئے ہیں،اس بات پر میں چونک اٹھا اور بار بار یہ بات میرے ذہن کو پریشان کرتی رہی تاہم جواب میں، میں نے اس سے کہا کہ الیگزینڈر تم پاگل ہو۔

مارٹن رابن نے سی بی سی نیوز کو اپنا فیس بک اکاؤنٹ دکھایا جس میں ملزم الیگزینڈر بیسونیٹ سے بات چیت کی گئی تھی جو بعدازاں ملزم کی گرفتاری کے بعد سے معطل کردیا گیا ہے۔

واضح رہے کہ کینیڈا کے شہر کیوبک کی مسجد میں نامعلوم افراد کی فائرنگ کے نتیجے میں 6 نمازی شہید ہوگئے تھے، فائرنگ کے وقت مسجد میں متعدد افراد موجود تھے۔

حملے کے الزام میں کیوبک پولیس نے 27 سالہ طالب علم الیگزینڈر بیسونیٹ کو گرفتار کیا ہے کینیڈا کی کراؤن پراسیکیوشن نے ملزم الیگزینڈر پر 6 افراد کے قتل اور 5 افراد کے اقدام قتل کی دفعات عائد کردی ہیں تاہم پولیس نے ملزم کے بارے میں مزید کوئی تفصیل جاری نہیں کی حالاں کہ پوری دنیا اس کیس کے بارے میں مزید جاننے کی متمنی ہے۔

Print Friendly, PDF & Email
20

Comments

comments

اس ویب سائیٹ پر موجود تمام تحریری مواد کے جملہ حقوق@2018 اے آروائی نیوز کے نام محفوظ ہیں

To Top