The news is by your side.

بھارت میں کینسر کی شرح میں ہولناک اضافہ، ماہرین نے خطرے کی گھنٹی بجا دی

نئی دہلی: بھارت میں مختلف اقسام کے کینسر ہولناک شرح سے پھیل رہے ہیں جس کے بعد بین الاقوامی ماہرین نے خطرے کی گھنٹی بجا دی۔

امریکا کے کینسر امراض کے ماہر اور اوہائیو میں کلیو لینڈ کلینک کے ہیمیٹولوجی اینڈ میڈیکل آنکولوجی محکمہ کے سربراہ ڈاکٹر ابراہم نے متنبہ کیا ہے کہ آنے والے وقت میں بھارت کو کینسر جیسی خطرناک بیماریوں کی سونامی جھیلنی پڑ سکتی ہے۔

انہوں نے اس کی وجہ گلوبلائزیشن، بڑھتی معیشت، عمر رسیدہ آبادی اور خراب لائف اسٹائل بتائی۔ انہوں نے اس سونامی کو روکنے کے لیے میڈیکل تکنیک کو فروغ دینے پر زور دیا ہے۔

ڈاکٹر ابراہم کا کہنا ہے کہ بھارت میں جس طرح سے سنگین بیماریاں بڑھ رہی ہیں، اسے روکنے کے لیے یہ بے حد ضروری ہے کہ وہ اس کی روک تھام اور علاج پر تیزی سے کام شروع کرے، بھارت کو کینسر کے ٹیکے، آرٹیفیشیل انٹیلی جنس اور ڈاٹا ڈیجیٹل تکنیک کو ایڈوانسڈ کرنا ضروری ہے۔

یاد رہے کہ بھارت کی مرکزی وزارت صحت نے گزشتہ ماہ بتایا تھا کہ ملک میں 2020 سے 2022 کے درمیان ممکنہ کینسر کیسز اور اس سے ہونے والی شرح اموات میں اضافہ ہوا ہے۔

بھارتی کونسل آف میڈیکل ریسرچ (آئی سی ایم آر) کے مطابق 2020 میں ریاستوں اور مرکز کے زیر انتظام علاقوں میں سنہ 2020 میں کینسر کیسز 13 لاکھ 92 ہزار تھے جو 2021 میں بڑھ کر 14 لاکھ 26 ہزار اور 2022 میں 14 لاکھ 61 ہزار ہوئی۔

کینسر سے اموات کی شرح ان سالوں میں بالترتیب 7 لاکھ 70 ہزار، 7 لاکھ 89 ہزار اور 8 لاکھ 8 ہزار رہی۔

عالمی ادارہ صحت کی کینسر کیسز کی رینکنگ میں چین، امریکا اور بھارت بالترتیب پہلے، دوسرے اور تیسرے نمبر پر ہیں۔

بھارتی محکمہ صحت کے اعداد و شمار کے مطابق بھارت میں مردوں میں سب سے زیادہ منہ اور پھیپھڑوں کے کینسر کے کیسز سامنے آئے ہیں۔ خواتین میں سب سے زیادہ بریسٹ کینسر اور رحم کے کینسر ریکارڈ ہوئے۔

Comments

یہ بھی پڑھیں