The news is by your side.

Advertisement

صحت مند زندگی گزارنے والے کینسر کا شکار کیوں؟

ایک عام خیال ہے کہ سگریٹ نوشی، شراب نوشی کرنے والے اور غیر متوازن و غیر صحت مند زندگی گزارنے والے افراد کینسر کا شکار ہوجاتے ہیں، لیکن بعض افراد ایسے بھی ہیں جو ایک لگی بندھی اور متوازن زندگی گزارتے ہیں اس کے باوجود اس موذی مرض کا شکار ہوجاتے ہیں۔

طبی ماہرین کا کہنا ہے کہ جب وہ اپنے پاس آنے والے کسی کینسر کے مریض کو اس کے مرض کے بارے میں بتاتے ہیں تو زیادہ تر افراد اپنے صحت مند طرز زندگی کے بارے میں آگاہ کرتے ہیں۔

وہ بتاتے ہیں کہ وہ ساری زندگی تمباکو اور شراب نوشی سے دور رہے اس کے باوجود وہ کینسر کا شکار کیوں ہوگئے؟

ماہرین کے مطابق صرف یہی 2 وجوہات کینسر کا سبب نہیں۔ ویسے تو کینسر کی کئی وجوہات ہیں، لیکن کچھ اسباب ایسے ہیں جو ہماری روز مرہ زندگی کا حصہ ہیں۔

تشویش ناک بات یہ ہے کہ ہمیں علم بھی نہیں ہوپاتا اور یہ نقصان دہ عناصر ہمیں آہستہ آہستہ اندر سے بیمار کر کے کینسر اور دیگر جان لیوا امراض کا شکار بنا دیتے ہیں۔

آج ہم ایسی ہی کچھ وجوہات سے آپ کو آگاہ کر رہے ہیں جو آپ کی لاعلمی میں آپ کو کینسر کا شکار بناسکتی ہیں۔

کیڑے مار ادویات

غذائی اجزا کی فصلوں کو کیڑوں اور دیگر حشرات الارض سے بچانے کے لیے ان پر بڑی مقدار میں کیڑے مار ادویات کا اسپرے کیا جاتا ہے۔

سوچنے کی بات ہے کہ جب یہ زہریلی دوائیں کیڑوں کو موت کے گھاٹ اتار سکتی ہیں تو انسان کو بدترین نقصان کیسے نہیں پہنچا سکتیں؟

طبی ماہرین کے مطابق یہ کیڑے مار ادویات انسانوں میں کینسر کی ایک بڑی وجہ ہیں۔

بعض دفعہ مصنوعی طریقے سے فصلوں کی پیداوار بڑھانے والی دوائیں بھی انسانوں کے لیے نقصان دہ ثابت ہوسکتی ہیں۔

فصلوں پر ان کیڑے مار زہریلی ادویات کے چھڑکاؤ کو روکنے یا انہیں کم سے کم سطح پر لانے کے لیے کئی ممالک میں قانون سازی کی جاچکی ہے اور کئی ممالک کی عوام تاحال اس کی منتظر ہے۔

محفوظ شدہ خوراک

کیمیائی طریقوں سے خوراک کو محفوظ کیا جانا بھی اس خوراک کو کینسر کا سبب بنا سکتا ہے۔

اس فہرست میں ڈبہ بند خوراک کو بھی شامل کیا جاتا ہے جن کا 1 سے 2 ماہ کے بعد استعمال نقصان پہنچانے کا سبب بن سکتا ہے۔

گو کہ ان ڈبوں پر درج ان کی معیاد ختم ہونے کی تاریخ 1 سے 2 سال بعد ہوتی ہے تاہم ماہرین کا کہنا ہے کہ زیادہ عرصے تک محفوظ کی گئی غذا کے استعمال سے گریز بہتر ہے۔

ملاوٹ

غذائی اشیا میں نقصان دہ اجزا کی ملاوٹ بھی کینسر کا ایک سبب بن سکتی ہے۔

ترقی پذیر ممالک بشمول پاکستان میں خشک دودھ میں چونے، سرخ مرچ میں لکڑی کا برادہ، ہلدی اور مختلف کھانوں میں مضر صحت رنگوں کا استعمال، اور چائے کی پتی میں تارکول کی ملاوٹ عام بات ہے۔

یہ ملاوٹ اس قدر عام ہوچکی ہے کہ حکام بھی ان ملاوٹ کرنے والے عناصر کی بہتات کے آگے مجبور نظر آتے ہیں۔

صفائی کا فقدان

سڑکوں پر بکنے والی اشیا اور کھانے یوں تو بے حد مزے دار لگتے ہیں، اور بقول معروف مصنف مشتاق احمد یوسفی ’جو شے جتنی زیادہ گندگی سے بنائی جاتی ہے، اتنی ہی زیادہ لذیذ ہوتی ہے‘۔

لیکن حقیقت یہ ہے کہ یہ گندگی اور صفائی کا فقدان صحت کے لیے سخت نقصان دہ ہے۔

مستقل طور پر باہر کے کھانوں کا استعمال جسم کو مختلف جراثیموں کی آماجگاہ بنا دیتا ہے۔

ان کی وجہ سے جسم کا مدافعتی نظام آہستہ آہستہ کمزور پڑنے لگتا ہے اور مختلف بیماریاں جسم پر حملہ آور ہوجاتی ہیں جو جان لیوا صوت اختیار کر جاتی ہیں۔

کینسر سے متعلق مزید مضامین پڑھیں


اگر آپ کو یہ خبر پسند نہیں آئی تو برائے مہربانی نیچے کمنٹس میں اپنی رائے کا اظہار کریں اور اگر آپ کو یہ مضمون پسند آیا ہے تو اسے اپنی فیس بک وال پر شیئر کریں۔

Print Friendly, PDF & Email

Comments

comments

یہ بھی پڑھیں