The news is by your side.

Advertisement

نئی دوا کے ٹرائل میں شامل کینسر کے تمام مریض صحت یاب

امریکا میں کینسر کی تجرباتی دوا کے استعمال کے بعد تمام مریض صحت یاب ہوگئے۔

امریکا میں تجرباتی دوا کے استعمال سے ایک کلینکل ٹرائل میں شامل کینسر کے تمام مریض صحتیاب ہوگئے جسے ماہرین نے ناقابل یقین قرار دیا ہے۔

ڈوسٹارلیماب نامی تجرباتی دوا کو بڑی آنت کے کینسر کے شکار ایک درجن مریضوں کو استعمال کرایا گیا تھا۔
دوا کے استعمال سے کینسر کی رسولی ختم ہوگئی جبکہ ان مریضوں کو کسی قسم کے نمایاں مضر اثرات کا سامنا بھی نہیں ہوا۔

ٹرائل میں شامل میموریل سلون کیٹرینگ کینسر سینٹر کے ڈاکٹر لوئس البرٹو نے بتایا ‘میرا ماننا ہے کہ کینسر کی تاریخ میں پہلی بار ایسا ہوا جس میں ایک ٹرائل میں شامل تمام مریض اس بیماری کو شکست دینے میں کامیاب ہوگئے’۔

مگر دیگر ماہرین کا کہنا ہے کہ ابھی یہ کہنا قبل از وقت ہوگا کہ یہ مریض صحتیاب ہوگئے ہیں یا یہ دوا بڑی آنت کے مختلف اقسام کے کینسر کے خلاف بھی کارآمد ثابت ہوگی۔

اس ٹرائل میں ریکٹم کینسر سے متاثر 12 افراد کو شامل کیا گیا تھا۔

کینسر کی یہ قسم کیموتھراپی اور ریڈی ایشن طریقہ علاج کے خلاف مزاحمت کرتی ہے جس کے باعث مریضوں کے متاثرہ حصے کو سرجری سے نکالنا پڑتا ہے جو زندگی بھر کے لیے مختلف مسائل کا باعث بنتا ہے۔

اس نئی تحقیق کو شروع کرتے ہوئے ماہرین کا خیال تھا کہ ڈوسٹارلیماب سے رسولی کا حجم گھٹ جائے گا کیونکہ اس سے مدافعتی خلیات کی کینسر زدہ خلیات کو شناخت اور ان پر حملہ کرنے کی صلاحیت بڑھ جاتی ہے۔

ٹرائل میں شامل مریضوں کو 6 ماہ تک ہر 3 ہفتے میں 500 ملی گرام دوا استعمال کرائی گئی۔

محققین کا خیال تھا کہ اس نئے طریقہ علاج کے بعد بھی مریضوں کو کیموتھراپی، ریڈی ایشن تھراپی یا سرجری کی ضرورت ہوسکتی ہے۔

مگر حیران کن طور پر دوا کے استعمال سے تمام مریضوں کا کینسر ختم ہوگیا۔

اب اس ٹرائل کو 2 سال سے زیادہ عرصہ ہوچکا ہے مگر اب بھی کسی مریض کو علاج کی ضرورت محسوس نہیں ہوئی، اس ٹرائل کے نتائج طبی جریدے نیو انگلینڈ جرنل آف میڈیسین میں شائع ہوئے۔

Comments

یہ بھی پڑھیں