site
stats
عالمی خبریں

کینیڈین وزیراعظم شامی متاثرین سے ملاقات میں روپڑے

اٹاوا: کینیڈا کے وزیراعظم جسٹن ٹروڈو نے شام سے منتقل ہونے والے متاثرین سے ملاقات کی، اس دوران شامی متاثرین کے بیانات سننے کے بعد کینیڈین وزیر اعظم اپنے جذبات کو قابو میں نہ رکھ سکے اور اُن کی آنکھوں سے آنسوچھلک گئے۔

تفصیلات کے مطابق کینیڈا کے وزیراعظم جسٹن ٹروڈو ٹی شو میں بیٹھے ہوئے تھے کہ وہاں موجود ایک شامی خاتون نے اپنے حالات بیان کرنا شروع کردیے جس کے بعد کینڈین وزیر اعظم اپنے جذبات پر قابو نہ رکھ سکے اور اُن کی آنکھوں سے آنسو چھلک پڑے۔

شامی خاتون نے وزیراعظم سے گفتگو کرتے ہوئے کہا کہ جب ہم نے کینیڈا کی سرزمین پر قدم رکھا اور جہاز سے اترے تو ہم سے جس شخص نے ہاتھ ملایا وہ کوئی اور نہیں بلکہ جسٹن ٹروڈو تھے۔

انہوں نے کہا کہ کینڈین وزیر اعظم نے شامی متاثرین کا پرجوش استقبال کرتے ہوئے صرف دو الفاظ ’’ویلکم ٹو ہوم‘‘ اپنے ہی گھر میں آپ کو خوش آمدید کہتا ہوں ادا کیے جس کے بعد ہمارے حوصلے بہت بلند ہوئے کیونکہ ہم شام میں اپنا سب کچھ لٹا کر آئے ہیں۔


پڑھیں: ’’ حلب کے بڑےحصے پر شامی فوج کا کنٹرول ‘‘


 اس موقع پر دیگر شامی متاثرین نے کینڈین وزیر اعظم کا شکریہ ادار کرتے ہوئے کہا کہ یہ الفاظ کسی ایسے شخص کے لیے جو اپنا گھر چھوڑ کر آرہا ہو، وہ بھی ایسا گھر جہاں جنگ جاری ہو بہت اہمیت رکھتے ہیں اور ان الفاظ کے بعد ہمیں کینیڈا میں آنے پر فخر محسوس ہوا۔

واضح رہے شام گزشتہ کئی سالوں سے خانہ جنگی کی لپیٹ میں ہے، جس کے باعث اب تک خواتین اور بچوں سمیت ہزاروں افراد لقمہ اجل بن چکے ہیں تاہم زندہ بچ جانے والے لاکھوں افراد ہجرت پر مجبور ہیں اور سمندر کے ذریعے محفوظ مقامات پر منتقل ہونے کی کوشش میں ہیں۔


مزید پڑھیں: ’’ حلب کے بڑےحصے پر شامی فوج کا کنٹرول ‘‘


سمندری جہازوں کے ذریعے ہجرت کرنے والے سینکڑو شامی سمندر کی نذر ہوچکے ہیں۔ گزشتہ سال سمندر کنارے ملنے والی شامی بچے ایلان کردی کی لاش نے دنیا بھر کی عالمی طاقتوں کے ضمیر کو جھنھجوڑ کر رکھ دیا تھا جب کہ بمباری سے زخمی ہونے والی شامی بچی نے عالمی برادری کو آنکھیں کھولنے پر مجبور کیا تاہم وہاں جنگ بدستور جاری ہے۔
Print Friendly, PDF & Email
20

Comments

comments

اس ویب سائیٹ پر موجود تمام تحریری مواد کے جملہ حقوق@2018 اے آروائی نیوز کے نام محفوظ ہیں

To Top