The news is by your side.

Advertisement

ایون فیلڈ ریفرنس: کیپٹن صفدر اپنا بیان ریکارڈ کرارہے ہیں

اسلام آباد : سابق وزیراعظم نوازشریف کے داماد کیپٹن ریٹائرڈ صفدر ایون فیلڈ ریفرنس کی سماعت کے دوران اپنا بیان قلمبند کروا رہے ہیں۔

تفصیلات کے مطابق وفاقی دارالحکومت اسلام آباد میں شریف خاندان کے خلاف ایون فیلڈ ریفرنس کی سماعت احتساب عدالت کے جج محمد بشیرکررہے ہیں۔

مسلم لیگ ن کے قائد میاں نوازشریف، ان کی بیٹی مریم نواز اور داماد کیپٹن صفدر احتساب عدالت میں موجود ہیں۔

احتساب عدالت میں سابق وزیراعظم میاں نوازشریف کے داماد کیپٹن ریٹائرڈ صفدر کا بیان قلمبند کیا جا رہا ہے۔

عدالت میں سماعت کے آغاز پر کیپٹن ریٹائرڈ صفدر نے بتایا کہ ان کی عمر55 سال ہے اور وہ گزشتہ دس سال سے ایم این اے ہیں۔

نیب پراسیکیوٹرنے کیپٹن صفدرکا بیان ان کے وکیل کی جانب سے لکھوانے پراعتراض کرتے ہوئے کہا کہ آپ سب کےجواب توایک ہی سانچے جیسے ہیں۔

سردار مظفر نے کہا کہ سوال ملزم سے کیا جائے اورجواب وکیل دے،تینوں ملزمان کےجوابات ایک جیسے ہیں،عدالت کا وقت بچایا جائے۔

کیپٹن صفدر کے وکیل امجد پرویز نے کہا کہ جب سوال ایک جیسے ہوں گے توجواب بھی ایک جیسے ہی آئیں گے، نیب پراسیکیوٹر نے کہا کہ ہم کسی گواہ سے ملیں تو انہیں اعتراض ہوتا ہے۔

سردار مظفر نے کہا کہ یہ ملزم کا بیان لکھ بھی لائیں توکوئی مسئلہ نہیں ہے جبکہ گواہ کوملنا بہت بڑا گناہ ہے، ملزمان کے ایک جیسے بیان پرہمیں فائدہ ہے۔

امجد پرویز نے کہا کہ یہ بحث کی باتیں ہیں، آج میرے موکل کا بیان مکمل نہیں ہوگا، نیب پراسیکیوٹر نے کہا کہ اتنا فیئرٹرائل کبھی نہیں ہوا۔

امجد پرویز نے کہا کہ تاریخ گواہ ہے کہ یہ کیا ہے، نیب پراسیکیوٹر نے کہا کہ لگتا ہے کیپٹن(ر) صفدرصاحب، آپ سوال پڑھ کرہی نہیں آئے۔

کیپٹن صفدر نے جواب دیا کہ سوال ہی نہیں پوری تراویح بھی پڑھی ہیں، اب تک 55 سوالات پڑھ چکا ہوں۔

نیب پراسیکیوٹر نے کہا کہ سوال کیپٹن (ر) صفدرسے ہے جواب ان کے وکیل امجد پرویزدے رہے ہیں، کیپٹن صفدر نے کہا کہ جےآئی ٹی میں 5 گھنٹے کی ریکارڈنگ کی گئی۔

سابق وزیراعظم کے داماد نے کہا کہ جےآئی ٹی میں باقاعدہ آڈیو ریکارڈنگ کا ریکارڈ موجود ہے، جےآئی ٹی میں اتنا سخت ماحول تھا جیسے جنگی قیدی بیٹھے ہوں۔

احتساب عدالت کے جج محمد بشیر نے کہا کہ انویسٹی گیشن کا اپنا طریقہ ہوتا ہے ہم اس پرابھی بات نہیں کررہے۔ امجد پرویز نے کیپٹن صفدر کو ہدایت کی کہ وہ براہ راست نیب پراسیکیوٹر سے بات نہ کریں۔

کیپٹن صفدر نے کہا کہ گلف اسٹیل سے میرا تعلق نہیں رہا جس پر معزز جج نے سوال کہ آپ کوگلف اسٹیل کا معلوم ہی نہیں؟ جس پر انہوں نے جواب دیا کہ وہ میری شادی سے پہلے کی بات ہے۔

سابق وزیراعظم کے داماد نے عدالت کو بتایا کہ جب حسین نوازجے آئی ٹی میں پیش ہوا میں اس وقت عمرے پرتھا۔

انہوں نے کہا کہ 1980کا معاہدہ نہ میں نے فائل کیا نہ ہی میرا کوئی تعلق ہے، حدیبیہ پیپرسے میرا کوئی تعلق نہیں اور جس متفرق درخواست میں یہ معاملہ تھا اس میں فریق نہیں ہوں۔

کیپٹن صفدر نے کہا کہ کوئین بنچ لندن کا فیصلہ میرے متعلق نہیں، ایون فیلڈ سے میرا تعلق نہیں ہے جس پر احتساب عدالت کے جج نے کہا کہ کچھ توتعلق ہے۔

انہوں نے کہا کہ مجھے نیب سے طلبی کا نوٹس نہیں ملا، ان کے وکیل نے کہا کہ نوٹس جاری کیا گیا لیکن تعمیل نہیں کرائی گئی، نوٹس جاری ہوتا ہےاورٹی وی پرچلتا ہے۔

احتساب عدالت کےجج محمد بشیر نے کہا کہ بیان آج مکمل کرلیں جس پرکیپٹن صفدر کے وکیل نے جواب دیا کہ کل صبح 10بجے تک بیان مکمل کردیں گے۔

کیپٹن صفدر نے بتایا کہ طارق شفیع اورموسیٰ غنی نہ اس کیس میں ملزم ہیں نہ ہی گواہ، عمرے پرجانا چاہتے ہیں مگریہاں عدالتی کارروائی کی سمجھ نہیں آرہی۔

امجد پرویز نے کہا کہ میری پوری فیملی عمرے پرجانا چاہ رہی ہے، ایک نوٹس میرے متعلق ہو، دوسرا وکیل کیسےعدالتی ریکارڈ پرلاسکتا ہے۔

سابق وزیراعظم کے داماد نے کہا کہ عدالت میں بیان کے لیے ساری رات تیاری کی، اسسٹنٹ سے سی آرپی سی سے متعلق بنیادی باتوں کا مطالعہ کیا۔

کیپٹن صفدر نے کہا کہ جےآئی ٹی میں کہا پاناما 58 ٹوبی ہے، مقصدنوازشریف کونکالنا ہے، جے آئی ٹی کوکہا مرضی کا جواب دے کروعدہ معاف گواہ نہیں بنوں گا۔

عدالت کی جانب سے سوال کیا گیا کہ نوازشریف کی قومی اسمبلی کی تقریرپرکیا کہیں گے؟ جس پر انہوں نے جواب دیا کہ تقرریوں سے میرا کوئی تعلق نہیں ہے۔

معزز جج نے سوال کیا کہ کیا آپ قومی اسمبلی میں نہیں تھے جس پر ان کے وکیل نے جواب دیا کہ لازمی نہیں میرے موکل اسمبلی گئے ہوں۔

کیپٹن صفدر نے کہا کہ مجھےکسی تقریرکا لفظ با لفظ یاد نہیں، مشکل سے اپنی تقاریرکے مسودے ٹھیک کرلیتا ہوں، باقی تقاریرمیں دلچسپی نہیں ہوتی۔

میں معصوم اور بے گناہ ہوں، مریم نواز کا بیان

خیال رہے کہ گزشتہ سماعت پرسابق وزیراعظم کی صاحبزادی مریم نواز نے اپنا بیان قلمبند کراتے ہوئے احتساب عدالت کی جانب سے پوچھے گئے تمام 128 سوالات کے جوابات دیے تھے۔

مریم نواز کا کہنا تھا کہ وہ کبھی بھی لندن فلیٹس کی مالک نہیں رہی اور نہ وہ نیلسن اور نیسکول کی بینیفیشل آنر ہیں اور ان کمپنیوں سے کبھی کوئی مالی فائدہ لیا نہ کوئی نفع۔


خبر کے بارے میں اپنی رائے کا اظہار کمنٹس میں کریں۔ مذکورہ معلومات کو زیادہ سے زیادہ لوگوں تک پہنچانے کے لیے سوشل میڈیا پر شیئر کریں۔

Comments

comments

یہ بھی پڑھیں