The news is by your side.

Advertisement

سیکنڈ ہینڈ گاڑیوں کے ڈیلرز خودکشیاں کیوں کررہے ہیں؟

کراچی : کروڑوں روپے مالیت کی گاڑیاں ادھار پر دینے والے  تاجر ریکوریوں کیلئے پریشان ہوگئے، استعمال شدہ گاڑیوں کی فروخت پر17 فیصد سیلز ٹیکس عائد ہونے سے تاجروں کو  کروڑوں روپے کا نقصان کا سامنا کرنا پڑرہا ہے۔

پاکستان میں استعمال شدہ گاڑیوں کی خرید و فروخت پر ٹیکس کے حوالے سے ایک نیا قانون کئی دنوں سے گردش میں ہے اور کئی لوگ اس بارے میں ابہام کا شکار ہیں۔

مختلف ذرائع ابلاغ اور سوشل میڈیا پر صارفین کی جانب سے ان خبروں پر تشویش کا اظہار کیا گیا ہے کہ شاید ہی اب استعمال شدہ گاڑیوں کی خرید و فروخت پر دونوں فریق کوئی نیا اضافی ٹیکس ادا کریں گے۔

ایف بی آر کے مطابق یہ نیا قانون صرف پرانی گاڑیوں کو ری کنڈیشن حالت میں فروخت کرنے پر عائد ہوگا یعنی اگر گاڑی کی قدر میں اضافہ ہوا ہے، اس کاروبار کی حوصلہ افزائی کے لیے سیلز ٹیکس کی رعایتی شرح متعین کی گئی ہے۔

ادارے کا کہنا ہے کہ اس کے تحت پرانی گاڑیوں کی مکمل قیمتِ خرید کے بجائے صرف منافع پر 17 فیصد سیلز ٹیکس وصول کیا جائے گا۔

اس حوالے سے اے آر وائی نیوز کے پروگرام باخبر سویرا میں معاشی تجزیہ کار مزمل اسلم نے خصوصی گفتگو کی ان کا کہنا تھا کہ اس ٹیکس کے عائد ہونے سے پہلے جو لوگ  لین دین کا ریکارڈ رکھ رہے تھے ان وہ اس کام کو چوری چھپے کرنے پر مجبور ہوجائیں گے اور رقوم کی منتقلی نقد ادائیگی سے کریں گے۔

مزید پڑھیں : قرضوں سے پریشان کاروں کے تاجر نے خود کشی کرلی

انہوں نے کہا کہ اس نظام سے حکومت کو ٹیکس نہیں جائے گا بلکہ رشوت کا بازار گرم ہوگا اور ملک و قوم کا نقصان ہوگا لہٰذا اس نظام کو آسان کیا جائے۔

Comments

یہ بھی پڑھیں