پیر, جولائی 13, 2026
اشتہار

گھر پر کئی ماہ سے کھڑی گاڑی کے مالک کو ای چالان موصول

اشتہار

حیرت انگیز

کراچی میں نافذ کردہ ای چالان سسٹم کی ایک کے بعد ایک خامی سامنے آنے لگی جس سے شہری شدید نفسیاتی دباؤ اور پریشانی کا شکار ہونے لگے ہیں۔

ای چلان سسٹم نے شہرقائد کے باسیوں کو نہ کردہ چالان کا قصوار ٹھہرانا بھی شروع کردیا ہے، کسی کو اس کی چوری شدہ گاڑی کا ای چلان بھیجا جا رہا ہے تو کسی کو ایک ہی روز میں پانچ پانچ ای چلان موصول ہو رہے ہیں، کوئی اس بات کی شکایت کرتا نظر آرہا ہے کہ اس کو کسی اور کی گاڑی کا ای چلان موصول ہوا ہے۔

تازہ ترین واقعے میں شہری کو کسی اور کی گاڑی کا 10 ہزار روپے کا ای چلان اس کے گھر کے ایڈریس گلشن اقبال پر بھیج دیا گیا۔

شہری فیصل ستار کا کہنا ہے کہ اس کے پاس سوزوکی کلٹس گاڑی ہے جبکہ اس کو موصول ہونے والا چلان سوزوکی مہران گاڑی کا ہے۔

مزید پڑھیں: ای چالان اگر گاڑی کے سابق مالک کو موصول ہوجائے تو وہ کیا کریں؟

شہری کا کہنا ہے کہ مہران گاڑی کبھی اس کے زیر استعمال نہیں رہی اس کی ملکیت کلٹس گاڑی ہے جس کا رنگ سلور ہے جبکہ ای چلان میں دکھائی گئی گاڑی کا رنگ سرخ اور وہ مہران ہے۔

متاثرہ شہری نے مزید انکشاف کیا کہ گزشتہ کئی ماہ سے گاڑی اس کے زیراستعمال ہی نہیں اس کی گاڑی گھر پر کھڑی ہے اور متواتر کھڑی رہنے کی وجہ سے اس کی بیٹری بھی ڈیڈ ہو چکی ہے۔

شہری فیصل ستار نے بتایا کہ جب اس نے شک پر ایکسائز کی ویب سائٹ پر بھیجے گئے ای چلان کی گاڑی کی تصدیق کے لیے اس کا رجسٹریشن نمبر ڈالا تو دلچسپ انکشاف ہوا کہ اے ایس ایف 813 نمبر کی گاڑی مہران ماڈل 2003 ہی ہے اور گاڑی مس مون لائٹ انڈسٹریز کے نام رجسٹرڈ ہے۔

انھوں نے مزید بتایا کہ ان کی گاڑی کا نمبر اے ایس ایف 613 اور ماڈل 2004 ہے، ٹریفک کی خلاف ورزی کرنے والی مہران گاڑی کی نمبر پلیٹ درسٹ طریقے سے ریڈ نہیں کی گئی اور گاڑی
نمبر اے ایس ایف 813 کے بجائے اے ایس ایف کے 613 کے مالک کو 10 ہزار روپے کا ای چلان بھیج دیا گیا۔

شہری نے کہا کہ جب وہ شکایت لےکر ٹریفک پولیس کے سہولت سینٹر پہنے تو ان سے کہا گیا کہ اس کا کیس کمیٹی کو بھیجا جائے گا جس کے بعد فیصلہ ہوگا۔

فیصل کا کہنا تھا کہ وہ ایک پرائیویٹ فرم میں ملازم ہے اور دس ہزار روپے کی بڑی رقم کا ناجائز ای چلان موصول ہونے کے بعد شدید ذہنی دباو کا شکار ہے۔

اس کا کہنا تھا وہ شدید پریشان ہے کہ اس نئی مصیبت سے جان چھڑانے کے لیے اس کو سرکاری دفاتر کے نجانے کتنے چکر کاٹنے پڑیں، کیونکہ سارے ثبوت موجود ہونے کے باوجود اس کو آئندہ تحقیقاتی کمیٹی کے سامنے پیش ہونے کا عندیہ دیا گیا ہے۔

کراچی: منچلوں نے ای چالان سے بچنے کا حیرت انگیز طریقہ ڈھونڈ نکالا

اہم ترین

مزید خبریں