site
stats
عالمی خبریں

سابق فرانسیسی خاتون اول کا میلانیا ٹرمپ کو مخلصانہ مشورہ

امریکی خاتون اول میلانیا ٹرمپ اکثر و بیشتر امریکی میڈیا کی تنقید کا نشانہ بنتی رہتی ہیں۔ ڈونلڈ ٹرمپ کے صدر منتخب ہونے سے قبل میلانیا ٹرمپ کی ماضی میں کی جانے والی ماڈلنگ کو نشانہ بنایا گیا، تو خاتون اول بننے کے بعد ان کے لباس اور فیشن پر تنقید کی گئی۔

تاہم حال ہی میں فرانس کی سابق خاتون اول کارلا برونی نے میلانیا ٹرمپ کو ایک حوصلہ افزا پیغام بھجوایا۔ کارلا برونی فرانس کے سابق صدر نکولس سرکوزی کی اہلیہ ہیں۔

نکولس کے دور صدارت کے پہلے برس ان دونوں نے شادی نہیں کی تھی جس کی وجہ سے یہ جوڑا مسلسل عالمی میڈیا کی تنقید کا نشانہ بنا رہتا تھا۔

سنہ 2007 میں صدر نکولس سرکوزی کے دورہ بھارت کے موقع پر بھارتی حکومت کی جانب سے انہیں پیغام بھجوایا گیا کہ وہ اپنی گرل فرینڈ کارلا کو ساتھ نہ لائیں کیونکہ بھارت جیسے مشرقی ملک میں ان کی گرل فرینڈ کو خاتون اول جیسا سرکاری پروٹوکول نہیں دیا جاسکتا، جس کے بعد نکولس سرکوزی مجبوراً اپنی گرل فرینڈ کے بغیر بھارت کے دورے پر آئے۔

بعد ازاں سنہ 2008 میں سرکوزی اور کارلا برونی نے شادی بھی کرلی۔

میلانیا ٹرمپ اور کارلا برونی میں مشترک بات یہ ہے کہ دونوں خواتین مشہور ماڈلز رہ چکی ہیں جس کے بعد دونوں خواتین اول کے عہدوں پر فائز ہوئیں۔

حال ہی میں ایک انٹرویو کے دوران کارلا برونی نے میلانیا ٹرمپ کو مشورہ دیا کہ جب بھی آپ پر تنقید ہو اسے سنجیدگی سے نہ لیں، ’یہ دراصل آپ پر نہیں بلکہ اس عہدے پر تنقید ہورہی ہے جس پر آپ فائز ہیں‘۔

کارلا کا مزید کہنا تھا کہ یہ آپ نہیں ہوتے جو تنقید کا نشانہ بنتے ہیں، بلکہ وہ عہدہ یا مقام ہوتا ہے جس کی وجہ سے آپ پر تنقید کی جاتی ہے۔

مزید پڑھیں: ملانیا ٹرمپ سے متعلق وہ باتیں جو آپ نہیں جانتے

فرانس میں صدراتی محل میں گزارے گئے وقت کے بارے میں بتاتے ہوئے کارلا برونی نے کہا کہ وہ یقیناً ایک بہترین تجربہ تھا اور واقعی ایک اعزاز تھا تاہم مجھے بہت محتاط رہنا پڑتا تھا کہ میری زبان سے کوئی غلط لفظ نہ نکلے۔

انہوں نے بتایا کہ اس عرصے میں وہ اپنے شوہر کے حوالے سے بھی مختلف خدشات کا شکار رہتی تھیں کہ کہیں انہیں قتل نہ کردیا جائے۔

کارلا برونی نے سابق امریکی خاتون اول مشعل اوباما کی بھی بے حد تعریف کی اور انہیں مہربان ترین خاتون قرار دیا۔


اگر آپ کو یہ خبر پسند نہیں آئی تو برائے مہربانی نیچے کمنٹس میں اپنی رائے کا اظہار کریں اور اگر آپ کو یہ مضمون پسند آیا ہے تو اسے اپنی فیس بک وال پر شیئر کریں۔

Print Friendly, PDF & Email
20

Comments

comments

اس ویب سائیٹ پر موجود تمام تحریری مواد کے جملہ حقوق@2018 اے آروائی نیوز کے نام محفوظ ہیں

To Top