The news is by your side.

Advertisement

کورونا کے بڑھتے کیسز، وفاقی حکومت کا لاک ڈاؤن میں سختی کے آپشن پر غور شروع

اسلام آباد : کورونا کے بڑھتے کیسز کے پیش نظر وفاقی حکومت نے لاک ڈاؤن سخت کرنے کے آپشن پر غور شروع کردیا اور فیصلہ کیا گیا عوام کوکورونا سے بچاؤکے ضابطہ اخلاق پرعمل کی تلقین کی جائے گی۔

تفصیلات کے مطابق ملک میں کورونا کے مریضوں اور اموات میں تشویشناک اضافہ ہوتا جارہا ہے، اس صورتحال میں وفاقی حکومت نے اسمارٹ لاک ڈاؤن میں سختی پر غور شروع کردیا ہے۔

ذرائع کا کہنا ہے کہ وزیر اعظم عمران خان کی زیر صدارت اعلیٰ سطحی اجلاس ہوا، جس میں لاک ڈاؤن سخت کرنے کے آپشن پر غور کیا گیا اور فیصلہ کیا کہ پہلے عوام کوکورونا سے بچاؤکےضابطہ اخلاق پرعمل کی تلقین کی جائےگی۔

اجلاس میں کہا گیا سیاسی قیادت کے ذریعےعوام کو ایس اوپیزپرعملدرآمد کی تلقین کی جائےگی ، چاروں صوبوں،آزاد کشمیر ،جی بی کی سیاسی قیادت ایس او پیزپرعمل کی تلقین کرے گی۔

اعلیٰ سطحی اجلاس میں فیصلہ کیا گیا کہ ایس او پیزپرعمل نہ کیاگیا تولاک ڈاؤن سخت کیاجائے گا۔

یاد رہے دو روز قبل وزیراعظم عمران خان کی زیر صدارت قومی رابطہ کمیٹی کے اہم اجلاس میں ہفتے میں دو روز لاک ڈاؤن کا فیصلہ کیا گیا تھا۔

اجلاس کے فیصلوں اور آئندہ کی حکمت عملی سے متعلق میڈیا سے گفتگو میں وزیراعظم عمران خان نے قوم کو اعتماد میں لیتے ہوئے کہا تھا کہ پہلے روز سے کہہ رہا ہوں ہمارے حالات مختلف ہیں،پاکستان میں کئی ایسے لوگ ہیں جو 2 وقت کا صحیح کھانا نہیں کھاسکتے،پیسے والے شور مچا رہے تھے لاک ڈاؤن کرو، دوسری طرف غریب تھے جو روزانہ کما کر کھاتے ہیں۔

وزیراعظم کا کہنا تھا کہ کرونا وائرس بہت تیزی سے پھیلتا ہے،لاک ڈاؤن سےصرف کرونا کیسز میں اضافے کو روکنا تھا،لاک ڈاؤن سے کرونا کا پھیلاؤ سست ہوجاتا ہے، کوشش یہی تھی کرونا کیسز کو کم تعداد پر روکاجائے،لاک ڈاؤن کا مقصدتھا اسپتالوں پر دباؤ نہ آئے۔

واضح رہے پاکستان میں گزشتہ 24 گھنٹوں کے دوران کورونا وائرس کے ریکارڈ 4,131 کیسز سامنے آنے کے بعد ملک بھر میں مریضوں کی تعداد 80,463 ہو گئی ہے جبکہ کورونا سے مزید 67 افراد زندگی کی بازی ہارگئے جس کے بعد ملک بھر میں جاں بحق افراد کی مجموعی تعداد 1,688 تک جا پہنچی ہے۔

Comments

یہ بھی پڑھیں