The news is by your side.

Advertisement

کرونا وائرس، اسلام آباد ہائی کورٹ کا اڈیالہ جیل میں قیدیوں کی رہائی سے متعلق بڑا حکم

اسلام آباد : اسلام آباد ہائی کورٹ نے: کرونا وائرس کے باعث  اڈیالہ جیل میں معمولی جرائم والے قیدیوں کو ضمانتی مچلکوں پر رہا کرنے کا حکم دے دیا اور کہا  ڈپٹی کمشنر ایک افسر مقرر کریں، جو ضمانتی مچلکوں کے معاملات دیکھے۔

تفصیلات کے مطابق اسلام آباد ہائی کورٹ میں چیف جسٹس اطہر من اللہ نے 10 سال سےکم سزاکےانڈرٹرائل قیدیوں کی ضمانت پررہائی کی درخواست پر سماعت کی۔

عدالتی حکم پرڈپٹی ڈی آئی جی وقاراحمد اور ڈپٹی کمشنر اسلام آباد حمزہ شفقات نے پیش ہوئے، رپورٹ میں بتایا گیا اڈیالہ جیل میں 2174 قیدیوں کی گنجائش موجود ہے، اڈیالہ جیل میں اس وقت 5001 قیدی موجودہیں ، جس میں سے 1362قیدیوں کےعدالتوں میں ٹرائل زیرالتوا ہیں۔

ڈی سی اسلام آباد حمزہ شفقات نے عدالت کو بتایا کہ اڈیالہ جیل میں کسی قیدی کو کرونا وائرس کی تشخیص نہیں ہوئی، جس پر چیف جسٹس نے ریمارکس دیتے ہوئے کہا کہ چین میں کرونا وائرس اس وقت پھیلا جب قیدیوں میں ہوا، جب غیر ضروری گرفتاریاں ہوتی ہیں تب بھی جیل کی گنجائش کم ہوتی ہے۔

چیف جسٹس نے کہا جیل میں صفائی ستھرائی کا بھی برا حال ہے، خدانخواستہ کسی قیدی کو ہو گیا تو پھر قابو نہیں آئے گا، جو بھی جیل قید میں جائے گا اس کی مکمل اسکریننگ ہو گی، کیونکہ اگر ایک بھی جیل کے اندر چلا گیا تو جیل میں موجود قیدیوں کو متاثر کر سکتا ہے، جو قیدی جیل سے باہر آئے گا اس کی بھی مستقل اسکریننگ ہو گی۔

جسٹس اطہر من اللہ نے ریمارکس دیئے ایران نے تو جیلوں سے سارے قیدی نکال دئیے ہیں ، کرونا وائرس کے پیش نظر عدالت قبل از وقت اقدامات اٹھا رہی ہے۔ یہ ایمرجنسی کی صورتحال ہے، جو چین نے کیا ہے وہ ایک مثال ہے۔

عدالت نے کہا کروناکےپیش نظرکیوں نہ انڈرٹرائل قیدیوں کورہاکردیاجائے، ایسے قیدی جو بغیر سزا جیل میں ہیں انہیں ضمانت پرکیوں نہ رہاکردیاجائے، ڈی سی اسلام آباد کا کہنا تھا کہ جیلوں کےلئےکیاپالیسی ہے، جیلوں سےملاقاتیوں کوفاصلےسےملاقات کرائی جارہی ہے۔

چیف جسٹس اطہر من اللہ نے کہا حدسے زیادہ قیدی جیل میں موجودہیں، قیدیوں کےلئےسپریم کورٹ کی ججمنٹ موجود ہے، متعلقہ ایس ایچ اوکی یقین دہانی پرقیدیوں کورہاکیاجائے، اگرقیدمیں کوئی ایچ آئی وی ایڈزمیں مبتلاہےتواسےبھی رہاکیاجائے ، کسی قیدی کی کم سزارہ گئی ہے توپےرول پررہاکیاجائے۔

ایڈووکیٹ جنرل اسلام آباد نیاز اللہ نیازی نے عدالت سے رہنمائی مانگی کہ اگر کسی ملزم کی ضمانت کی درخواست پہلے مسترد ہو چکی تو اس کا کیا ہو گا اور کیا نیب کیسز میں گرفتار ملزمان بھی ضمانت پر رہا ہوں گے؟ جس پر چیف جسٹس نے ریمارکس دیتے ہوئے کہا کہ جو افراد گرفتاری کے بعد ابھی جیل نہیں گئے انہیں تھانے کے حوالات سے ہی قانونی کارروائی کر کے رہا کیا جائے، یہ معاملہ صوبائی حکومت نے دیکھنا ہے۔

عدالت نے معمولی جرائم والے قیدیوں کو ضمانتی مچلکوں پر رہا کرنے کا حکم دیتے ہوئے ہدایت کی کہ ڈپٹی کمشنر ایک افسر نامزد کریں جن کی تسلی کے بعد ملزموں کو ضمانت پر رہا کیا جائے اور جو قیدی مچلکے جمع نہیں کرا سکتے حکومت کو ان قیدیوں کے مچلکے خود دینا پڑیں تو دے۔

چیف جسٹس اطہر من اللہ نے سماعت کے آخر میں کہا کہ اس کیس میں ججمنٹ دونگا تاکہ اس ججمنٹ کے تحت قیدیوں کی رہائی ممکن ہو۔

گذشتہ روز اسلام آبادہائیکورٹ میں 1362 قیدیوں کی ضمانت پر رہائی کی درخواست پر سماعت میں چیف جسٹس نےڈی سی،ڈپٹی آئی جی پولیس،سیکرٹری ہیلتھ اور ڈی جی ہیلتھ کو بھی طلب کیا تھا۔

fb-share-icon0
Tweet 20

Comments

comments

یہ بھی پڑھیں