The news is by your side.

Advertisement

فضائی میزبان دوران پرواز مسافر میں کرونا وائرس کی علامات کیسے پہچانیں؟

کراچی : پی آئی اے نے بین الاقوامی پروازیں کا جزوی آپریشن بحال ہونے پر فضائی عملے کیلئے نئی ٹریول ایڈوائزری جاری کردی ، جس میں فضائی میزبان کے دوران پرواز مسافر میں کرونا وائرس کی علامات پہچانے کا طریقہ واضح کیا گیا ہے۔

تفصیلات کے مطابق پی آئی اے کا بین الاقوامی پروازیں کا جزوی آپریشن بحال کردیا گیا۔ پی آئی اے نے فضائی عملے کیلئے نئی ٹریول ایڈوائزری جاری کردی

پی آئی اے انتظامیہ کی نئی ٹریول ایڈوائزری کے مطابق جہاز کے کپتان ، فضائی میزبان اور مسافروں کے لیے الگ الگ ہدایات جاری کی گئی ہیں۔

ایڈوائزری میں طریقہ واضح کیا گیا ہے کہ فضائی میزبان دوران پرواز مسافر میں کرونا وائرس کی علامات کیسے پہچانیں۔

ایڈوائزری میں کہا گیا ہے کہ کپتان پرواز کی روانگی سے قبل جہاز میں کرونا وائرس سے بچاو اور احتیاطی تدابیر سے متعلق انتظامات کی مکمل جانچ کر ے گا۔

پی آئی اے انتظامیہ کا کہنا ہے کہ دوران پرواز فضائی میزبان مسافروں کو ہینڈ سینی ٹائرز اور ماسک کا استعمال یقینی بنائیں گے جبکہ مسافروں سے ہیلتھ ڈیکلیریشن فارم پر کروانا لازمی قرار دے دیا گیا۔

نئی ایڈوائزری کے مطابق طیارے میں الاٹ شدہ سیٹ کے علاوہ مسافر کو کسی دوسری نشست پر نہ بیٹھنے دیا جائے گا۔

یاد رہے حکومت نے پی آئی اے کو جزوی طور پر فلائٹ آپریشن بحال کرنے کی اجازت دی تھی، پہلے مرحلے میں محدود تعداد میں مسافروں کو واپس لایا جائے گا تا کہ ان کا این آئی ایچ کی صلاحیت کے مطابق مربوط ٹسٹینگ کی جا سکے۔

کینیڈا اور برطانیہ کے لئے کراچی، لاہور اور اسلام آباد سے پروازیں چلائی جائیں گی جبکہ ٹورنٹو کے لئے فلائٹ آپریشن 03 اپریل سے بحال ہو گا اور برطانیہ کے لیے فلائٹ آپریشن 04 اپریل سے شروع ہو گا۔

فلائٹ آپریشن بندش کے دوران متاثرہ مسافروں کو ترجیح دی جائے گی، تمام پروازیں واپس صرف اسلام آباد ائر پورٹ پر لینڈ کریں گی ، پروازیں اترنے کے بعد لاوئنج میں تمام مسافروں کا ٹسٹ کیا جائے گا۔

※ اسلام آباد میں تمام مسافروں کو چھ گھنٹے کے لئے مقامی ہوٹلوں میں رکھا جائے گا، جو مسافر کلیئر ہوں گے ان کو گھر بھیج دیا جائے گا جبکہ متاثرہ مسافروں کو قرنطینہ سینٹر منتقل کیا جائے گا۔

پی آئی اے اپنے عملے کی حفاظتی کو یقینی بنانے کے لئے تمام حفاظتی امور پر سختی سے عمل پیرا ہے۔

fb-share-icon0
Tweet 20

Comments

comments

یہ بھی پڑھیں