The news is by your side.

ایم کیوایم کی جائیدادوں کا کیس : امین الحق نے لندن عدالت میں بیان دے دیا

لندن : ایم کیو ایم پاکستان کی جانب سے برطانیہ میں موجود ایم کیو ایم کی جائیدادوں کے حصول کیلیے لندن کی عدالت میں مقدمہ زیرسماعت ہے۔

اس حوالے سے ایم کیو ایم رہنماؤں نے برطانیہ کی عدالت میں اپنے اپنے بیانات قلمبند کروا دیے ہیں تاہم آج ایم کیوایم پاکستان کے رہنما اور وفاقی وزیر امین الحق نے عدالت میں بیان ریکارڈ کروا دیا۔

امین الحق کا اپنے بیان میں کہنا تھا کہ مقدمہ شروع ہونے سے6ماہ قبل میرا ای میل اکاؤنٹ ہیک ہوگیا تھا، جائیدادوں کے حصول کیلئے2015کے آئین کی بنیاد پر کیس شروع کیا لیکن بعد میں احساس ہوا کہ اصل آئین 2016کا ہے۔

بانی متحدہ کے وکیل کی جرح پر امین الحق نے کہا کہ غلطی کا احساس ہوا تو2020میں تصحیح کرلی، میں وکیل نہیں اور نہ ہی آئینی امور کا ماہر ہوں بلکہ میں ایک سیاسی کارکن ہوں اس لیے غلطی کربیٹھا۔

جج نے سوال کیا کہ اس غلطی کی نشاندہی کس نے کی اور کیس کس کے کہنے پر شروع کیا؟جس پر امین الحق نے جواب دیا کہ کیس ایم کیو ایم پاکستان کے سربراہ کے کہنے پرشروع کیا۔

امین الحق کا کہنا تھا کہ بانی متحدہ کی2016متنازعہ تقریر کے بعد آئین کی بنیاد پرمقدمہ کیا ہے، اس آئین کے تحت بانی متحدہ کو عہدے سے ہٹادیا گیا تھا جبکہ ایم کیوایم لندن کا مؤقف ہے کہ 2015کا درست آئین ہے، جسے اکتوبر2015 کو منظور کیا گیا تھا۔

امین الحق کے مطابق کیس شروع کرنے کیلئے آئینی دستاویزات وسیم اختر سے ملے جو سی ای سی سے آئے تھے، سال2015 کے آئین کا ڈرافٹ بانی متحدہ اور وسیم اختر نے تیار کیا تھا۔

انہوں نے کہا کہ2015کے آئین پر رابطہ کمیٹی نے نہ تو بحث کی اور نہ اسے منظور کیا تھا، ایم کیو ایم لندن سے ہونے والی تمام گفتگو عدالت میں پیش کی جائے۔

وکیل نے سوال کیا کہ آپ آئی ٹی کے منسٹر ہیں، ای میلز وصول کرنے کیلئے کیا اقدامات کئے؟آپ لندن کا ویزا لے کر خود عدالت میں پیش کیوں نہیں ہوئے؟

امین الحق نے کہا کہ2012کا آئین بانی متحدہ کو پارٹی کا حقیقی لیڈر مانتا اور فیصلہ کن اختیار دیتا ہے، بانی متحدہ نے ہمیں نظریہ دیا اور پارٹی کا ہر رکن ان کی عزت کرتا تھا۔

واضح رہے کہ لندن کی عدالت میں متحدہ قومی موومنٹ (ایم کیوایم) کے نام سات جائیدادیں ہیں، جن کی ملکیت کا دعویٰ ایم کیوایم پاکستان کررہی ہے۔

Comments

یہ بھی پڑھیں