اسلام آباد: اسلام آباد ہائیکورٹ نے سوشل میڈیا پر گستاخانہ مواد کی تشہیر کے مقدمے میں ملزم فہد کی ضمانت منظور کرلی گئی۔
تفصیلات کے مطابق اسلام آباد ہائیکورٹ کے جسٹس محسن اختر کیانی نے سوشل میڈیا پر گستاخانہ مواد کی تشہیر کے مقدمے میں ملزم فہد کی درخواست ضمانت پر سماعت کی۔
وکیل درخواست گزارطلحہ سرفرازویڈیو لنک پر اور وکیل آصف تمبولی عدالت میں پیش ہوئے۔
دوران سماعت ملزم فہد کے شریک ملزم راجہ عادل کی کچہری دھماکے میں ہلاکت کا انکشاف سامنے آیا۔
وکیل مدعی نے بتایا کہ کیس میں شریک ملزم راجہ عادل ہے،کہاگیاوہ کچہری دھماکےمیں ہلاک ہوگیا، ہلاک ہونےوالےافرادکی پمزاسپتال کی فہرست میں اس کانام نہیں ، ملزم راجہ عادل عدالت میں پیش نہیں ہورہا ہے۔
وکیل مدعی کا کہنا تھا کہ اگروہ ماراگیا تو یا ڈیتھ سرٹیفکیٹ یاجنازے کی تصویرجمع کروائی جائے، جس پر جسٹس محسن اختر کیانی نے ریمارکس دیئے اگر وہ پیش نہیں ہورہا تو کیا شریک ملزم اس کو پیش کرے گا۔
وکیل مدعی نے کہا امکان ہے ملزم راجہ عادل مفرورہوگیااسی طرح ملزم فہد بھی مفرور ہو جائے گا ، استدعا ہے کہ عدالت درخواست گزار ملزم فہد کی ضمانت مسترد کرے۔
جسٹس محسن اختر کیانی نےکہا پولیس کا کام ہے گرفتار کرے، پیش کرنےکی ذمہ داری شریک ملزم کی تونہیں۔
عدالت نے وکیل مدعی کی استدعا مسترد کرتے ہوئے ملزم فہد کی ضمانت منظور کرلی اور ملزم کو ضمانت کے بعد ٹرائل میں حاضری یقینی بنانے کی ہدایت کردی۔


