سلمان خان کے خلاف ہندو سرگرم، توہین مذہب کا مقدمہ درج -
The news is by your side.

Advertisement

سلمان خان کے خلاف ہندو سرگرم، توہین مذہب کا مقدمہ درج

ہندو تنظیموں نے فلم کی ریلیز روکنے کی دھمکی بھی دے دی

ممبئی: بھارتی ریاست بہار کی مقامی عدالت نے نامور بالی ووڈ اداکار سلمان خان اُن کے بہنوئی آیوش شرما سمیت 7 افراد کے خلاف توہین مذہب کا حکم دے دیا۔

تفصیلات کے مطابق دبنگ خان کے اپنے پروڈکشن ہاؤس میں بنائی جانے والی نئی بالی ووڈ فلم ’لوراتری‘ کے نام کو بنیاد بناتے ہوئے ہندو تنظیموں نے بھارتی ریاست بہار کے شہر مظفر آباد کی عدالت میں توہین مذہب کا مقدمہ درج کرنے کی درخواست 6 ستمبر کو دائر کی۔

درخواست گزار کے وکیل نے عدالت میں مؤقف اختیار کیا کہ سلمان خان کی زیرسرپرستی بنائی جانے والی فلم کا نام ’لوراتری‘ رکھ کر ہندوؤں کے مذہبی تہوار ’نوراتری‘ کی تضحیک کی گئی۔

وکیل کا کہنا تھا کہ فلم ڈائریکٹر کے اس اقدام سے نہ صرف ہندو مذہب سے تعلق رکھنے والے افراد کے جذبات مجروح ہوئے لہذا عدالت فلم کی ریلیز روکنے اور متعلقہ افراد کے خلاف مقدمہ درج کرنے کا حکم دے۔

مزید پڑھیں: سلمان خان پاکستانی اداکاروں کے حق میں بول پڑے

انہوں نے عدالت کو آگاہ کیا کہ فلم میں ایک منظر شامل کیا گیا جس میں دیکھاگیا ہے کہ نوجوان لڑکے اور لڑکی کی ملاقات ’نوراتری‘ کے تہوار پر ہوتی ہے جس کے بعد وہ ایک دوسرے سے پیار کرنے لگتے ہیں، فلم بنانے کا مقصد مذہبی دن کو متاثر کرنا ہے۔

درخواست گزار کے وکیل نے یہ بھی الزام عائد کیا کہ فلم کی تشہیر کے دوران ہدایت کار سمیت پوری ٹیم نے نوراتری کے تہوار کو غلط انداز میں پیش کیا جس کی وجہ سے نیا تنازع بھی پیدا ہوا۔

مقامی عدالت نے 6 ستمبر کو دائر ہونے والی درخواست کی سماعت کی اور مدعا علیہ کے وکیل سدھیرا اوجھا کے دلائل کی روشنی میں پولیس کو سلمان خان اُن کے بہنوئی آیوش شرما سمیت 7 افراد کے خلاف مقدمہ درج کرنے کا حکم  جاری کیا۔

یہ بھی پڑھیں: سلمان خان اور شلپا سیٹھی کے خلاف مقدمے کی درخواست

عدالت نے درخواست پر فیصلہ سناتے ہوئے بالی ووڈ کے سلطان سلمان خان، فلم کی مرکزی اداکارہ ورینا حسین، اداکار آیوش شرما، ہدایت کار سمیت دیگر اراکین کو مقدمے میں نامزد کرنے کا حکم دیا۔

فلم کا ٹریلر

واضح رہے کہ فلم’’لوراتری‘‘سلمان خان کے پروڈکشن ہاؤس میں بنائی گئی جس میں اُن کے بہنوئی آیوش شرما ڈیبیو کررہے ہیں، فلم 5 اکتوبر کو ریلیز ہونے کا امکان ہے۔

دوسری جانب ہندو تنظیموں نے فلم کی تشہیر کو ہر صورت روکنے کے لیے مظاہرے شروع کردیے جبکہ کچھ تنظیموں نے دھمکی دی ہے کہ جن سینیما گھروں کے مالکان نے لوارتری کے ریلیز ہونے میں کسی بھی قسم کی مدد کی وہ اپنے نقصان کے خود ذمہ دار ہوں گے۔

Comments

comments

یہ بھی پڑھیں