The news is by your side.

Advertisement

کرونا کے بعد پرانی وبا بھی سر اٹھانے لگی، 254 ہلاکتیں

جکارتہ: انڈونیشیا میں کرونا کے بعد ڈینگی وبا کی شدت بھی اختیار کرگئی جس سے مرنے والوں کی تعداد 254 تک پہنچ گئی۔

بین الاقوامی میڈیا رپورٹ کے مطابق انڈونیشیا میں رواں سال کے چار ماہ میں ڈینگی وائرس سے مرنے والے افراد کی تعداد 254 تک پہنچ گئی ہے۔

انڈونیشیا کی وزارت صحت کے شعبہ انسداد وبائی امراض کی ڈائریکٹر سیتی نادیہ ترمذی کا کہنا تھا ہے کہ رواں سال ڈینگی سے متاثر ہونے والے افراد کی تعداد 39 ہزار 836 سے تجاوز کر گئی۔

انہوں نے بتایا کہ رواں سال مرنے والے افراد کی تعداد 254 تک پہنچ گئی۔ ملک کے دو صوبے جاوا اور نوساٹنگارا میں مرض نے شدت اختیار کی ہوئی ہے۔

ترمذی کا کہنا  ہے کہ اب تک  مشرقی ڈونا ٹنگارا صوبے میں سب سے زیادہ ہلاکتیں ہوئی ہیں۔

مزید پڑھیں: ڈینگی مچھر سے بچاؤ اور مچھروں کو بھگانے کے چند آسان نسخے

یاد رہے کہ انڈونیشیا میں بھی کرونا وائرس کے کیسز رپورٹ ہوئے، اب تک وہاں 2956 مصدقہ مریض سامنے آچکے ہیں جبکہ اموات کی تعداد 240 سے متجاوز ہوچکی۔ گزشتہ چوبیس گھنٹوں کے دوران کرونا کے 218 نئے کیسز سامنے آئے جبکہ 19 سے زائد اموات بھی ہوئیں۔

حکومت نے ڈینگی کی روک تھام کے لیے انڈونیشیا میں لاک ڈاؤن کر رکھا ہے اور تمام سیاحتی مقامات کو بھی بند کردیا۔

ڈینگی بخار کیا ہے؟

اس کی علامات ہر شخص میں مختلف انداز میں ظاہر ہوتی ہیں۔

کچھ لوگوں میں انفیکشن کی علامات ظاہر نہیں ہوتیں جبکہ کچھ لوگوں میں نزلہ و زکام جیسی علامات سامنے آتی ہیں، جن کا قوتِ مدافعت کمزور ہوتا ہے وہ ڈینگی وائرس سے ہلاک بھی ہوجاتے ہیں۔

اس بخار کو ہڈی توڑ بخار بھی کہا جاتا ہے کیونکہ یہ پٹھوں اور ہڈیوں میں سخت درد کا سبب بنتا ہے۔

یہ بھی پڑھیں: ڈینگی مچھر نے ڈیلٹا میتھرین کو برداشت کرنے کی صلاحیت حاصل کر لی

ورلڈ موسکیٹو پروگرام کے پروفیسر کیمرون سِمنز نے کہا کہ ڈینگی وائرس، ملیریا جتنی ہلاکتوں کا سبب نہیں بنتا اس سے زیادہ بیماری پھیلاتا ہے اور بنیادی طور پر یہ ایک بڑا مسئلہ ہے۔

وولباکیابیکڑیا:

یہ مانا جاتا ہے کہ بیکٹیریا مچھروں کے اندر ایسی جگہوں پر بسیرا کر لیتے ہیں جہاں ڈینگی وائرس موجود ہوتا ہے، بیکٹیریا وائرس کو وہ وسائل فراہم کرتے ہیں جو اُن کے زندہ رہنے کے لیے ضروری ہوتے ہیں۔

اگر ڈینگی وائرس اپنی نقول نہ بنا سکے اور مچھروں کے اندر اپنی تعداد نہ بڑھا سکے تو مچھر کے کاٹنے پر اس مرض کے پھیلنے کا امکان بہت کم رہ جاتا ہے۔ حشرات کی کئی انواع پر بیکٹیریا قدرتی طور پر اثرانداز ہوتے ہیں جس میں آپ کے باورچی خانے میں اڑتی ننھی منی پھل مکھیاں بھی شامل ہیں۔

ڈینگی پھیلانے والا مچھر ایڈیز ایجپٹی عام طور پر اس سے متاثر نہیں ہوتا۔

Comments

یہ بھی پڑھیں